طالبان نے حاملہ پولیس اہلکار کو گھر میں گھس کر قتل کردیا

خاتون پولیس اہلکار کے قتل میں طالبان ملوث نہیں، سابق حکومت کیلیے کام کرنے والوں کو عام معافی دی ہے، ذبیح اللہ مجاہد

خاتون کو شوہر اور بچوں کے سامنے قتل کیا گیا، فوٹو: نیویارک پوسٹ

افغانستان کے صوبہ غور میں طالبان نے مبینہ طور پر خاتون پولیس کے گھر میں گھس کر انھیں شوہر اور بیٹے کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا اور جاتے ہوئے گولی مار کر قتل کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق افغانستان کےصوبے غور کے دارالحکومت فیروزکوہ میں ایک خاتون پولیس اہلکار بانو نگار کو گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ خاتون اہلکار کے رشتے داروں نے قتل کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقتولہ بانو نگار کے رشتے داروں نے بتایا کہ طالبان گھر میں گھس آئے اور خاتون پولیس اہلکار کو ان کے شوہر اور بیٹے کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا اور جاتے ہوئے سر پر گولی مار کر قتل کردیا۔

رشتے داروں کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا وہ لوگ بھی گھر پر ہی تھے اور اس واقعے کے عینی شاہد ہیں تاہم طالبان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔


دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس واقعے کا علم ہے۔ ہم پہلے ہی سابق حکومت کے لیے کام کرنے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرچکے ہیں۔

ترجمان طالبان نے مزید کہا کہ خاتون کے قتل میں طالبان جنگجو ملوث نہیں البتہ ہماری تحقیقات جاری ہیں، ممکن ہے کہ خاتون پولیس اہلکار کا قتل ذاتی دشمنی یا کسی اور وجہ سے ہوا ہو۔

بی بی سی کے مطابق فیروزکوہ میں لوگ خود زدہ ہیں اور اس واقعے کی تفصیلات نہیں بتانا چاہتے۔ ابھی تک واضح نہیں کہ اس قتل کے کیا محرکات تھے اور اگر قاتل طالبان نہیں تھے تو طالبان کے لباس میں کون تھے۔

 
Load Next Story