قومی تعلیمی ایجنڈا 2030 کے تیز رفتار نفاذ کےلیے کنسورشیم کا قیام
یہ کنسورشیم اقوام متحدہ کے مقرر کردہ چوتھے ہدف برائے پائیدار ترقی کے حصول میں بھی کردار ادا کرے گا
اس وقت پاکستان میں دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے اور جوان سکول نہیں جا پا رہے ہیں جبکہ سات کروڑ پچاس لاکھ بالغ نوجوان ناخواندہ ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
پاکستان کے تعلیمی شعبے میں بہتری کےلیے کوشاں چند محبِ وطن اداروں نے باہمی اشتراک سے ایک کنسورشیم تشکیل دیا ہے جو تعلیمی ترقی کے 2030 کے ایجنڈے پر عملدرآمد کی جاری کوششوں کو مزید تیز کرنے کےلیے بہترین اقدامات کرے گا۔
پاکستان ایکشن کنسورشیم برائے تعلیم کو ہاورڈ کلب آف پاکستان، نالج پلیٹ فارم، جونیئر جناح ٹرسٹ، الائیٹ پاکستان اور ٹیچ دی ورلڈ نامی اداروں نے باہم مل کر تشکیل دیا ہے۔
یہ کنسورشیم صوبائی اور قومی سطح پر تعلیمی عمل میں بہتری کےلیے کوشاں دیگر سرکاری اداروں اورملکی اور غیر ملکی غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 4 کے حصول میں بھی اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرے گا۔
کنسورشیم کے شریک بانی شفیق خان کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی صورتحال میں ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے اور وہ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کا تعلیمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔
اس وقت پاکستان میں دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے اور جوان سکول نہیں جا پا رہے ہیں جبکہ سات کروڑ پچاس لاکھ بالغ نوجوان ناخواندہ ہیں۔
پاکستان پائیدار ترقی کے عالمی انڈیکس کے مطابق 134ویں نمبر پر ہے اور براعظم ایشیا میں بھی پائیدار تعلیمی ترقی کے لحاظ سے پاکستان خطے کے تمام ممالک کی نسبت، درجہ بندی کے لحاظ سے سب سے آخری نمبر پر ہے۔
پاکستان ایکشن کنسورشیم برائے تعلیم کو ہاورڈ کلب آف پاکستان، نالج پلیٹ فارم، جونیئر جناح ٹرسٹ، الائیٹ پاکستان اور ٹیچ دی ورلڈ نامی اداروں نے باہم مل کر تشکیل دیا ہے۔
یہ کنسورشیم صوبائی اور قومی سطح پر تعلیمی عمل میں بہتری کےلیے کوشاں دیگر سرکاری اداروں اورملکی اور غیر ملکی غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 4 کے حصول میں بھی اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرے گا۔
کنسورشیم کے شریک بانی شفیق خان کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی صورتحال میں ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے اور وہ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کا تعلیمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔
اس وقت پاکستان میں دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے اور جوان سکول نہیں جا پا رہے ہیں جبکہ سات کروڑ پچاس لاکھ بالغ نوجوان ناخواندہ ہیں۔
پاکستان پائیدار ترقی کے عالمی انڈیکس کے مطابق 134ویں نمبر پر ہے اور براعظم ایشیا میں بھی پائیدار تعلیمی ترقی کے لحاظ سے پاکستان خطے کے تمام ممالک کی نسبت، درجہ بندی کے لحاظ سے سب سے آخری نمبر پر ہے۔