کراچی حصص مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد محدود تیزی
کاروباری صورتحال غیر واضح رہی، سرمایہ کار محتاط اور انڈیکس 12 پوائنٹس کے اضافے سے 26 ہزار 607 پر بند
183 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ،204کے دام کم رہے۔ فوٹو: آئی این پی
داخلی امن کی کاوشوں سے متعلق حکومتی موقف واضح نہ ہونے اورسرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری غیرواضح ہوگئی ہے اور جمعرات کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد قابل ذکر نوعیت کی تیزی رونما نہ ہوسکی۔
ماہرین کے مطابق بینک آف پنجاب کی جانب سے رائٹ شیئرز کے اجراکی وجہ سے بینک آف پنجاب سمیت چھوٹے وکم قیمت حصص میں نئے پلیئرز کی خریداری بڑھنے سے محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی لیکن اس کے باوجود51 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تاہم کے ایس ای آل شیئراور کے ایس ای100 انڈیکس بڑھنے سے حصص کی مالیت میں18 ارب90 کروڑ 50 لاکھ48 ہزار152 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ حصص مارکیٹ کی غیرواضح سمت کے باعث بڑے پلیئرز نے دیکھواور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرلی ہے جو آئندہ سیشنز میں مندی کا پیش خیمہ لگ رہا ہے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر80 پوائنٹس کی تیزی اور73.52 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی، کاروباری دورانیے میں بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر56 لاکھ76 ہزار823 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے8 لاکھ73 ہزار484 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے14 لاکھ4 ہزار338 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے33 لاکھ99 ہزارڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
محدود پیمانے پر تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 12.01 پوائنٹس کے اضافے سے26607.64 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 22.01 پوائنٹس کی کمی سے 19151.87 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 20.56 پوائنٹس کی کمی سے43710.26 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 26فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر34 کروڑ42 لاکھ85 ہزار 470 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار407 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں183 کے بھاؤ میں اضافہ، 204 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ211.55 روپے بڑھ کر12800 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھاؤ147.96 روپے بڑھ کر 4895.27 روپے ہوگئے جبکہ انڈس ڈائینگ کے بھاؤ57.22 روپے کم ہو کر 1087.28 روپے اور مچلز فروٹ کے بھاؤ40.54 روپے کم ہوکر770.38 روپے ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق بینک آف پنجاب کی جانب سے رائٹ شیئرز کے اجراکی وجہ سے بینک آف پنجاب سمیت چھوٹے وکم قیمت حصص میں نئے پلیئرز کی خریداری بڑھنے سے محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی لیکن اس کے باوجود51 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تاہم کے ایس ای آل شیئراور کے ایس ای100 انڈیکس بڑھنے سے حصص کی مالیت میں18 ارب90 کروڑ 50 لاکھ48 ہزار152 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ حصص مارکیٹ کی غیرواضح سمت کے باعث بڑے پلیئرز نے دیکھواور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرلی ہے جو آئندہ سیشنز میں مندی کا پیش خیمہ لگ رہا ہے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر80 پوائنٹس کی تیزی اور73.52 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی، کاروباری دورانیے میں بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر56 لاکھ76 ہزار823 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے8 لاکھ73 ہزار484 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے14 لاکھ4 ہزار338 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے33 لاکھ99 ہزارڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
محدود پیمانے پر تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 12.01 پوائنٹس کے اضافے سے26607.64 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 22.01 پوائنٹس کی کمی سے 19151.87 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 20.56 پوائنٹس کی کمی سے43710.26 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 26فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر34 کروڑ42 لاکھ85 ہزار 470 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار407 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں183 کے بھاؤ میں اضافہ، 204 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ211.55 روپے بڑھ کر12800 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھاؤ147.96 روپے بڑھ کر 4895.27 روپے ہوگئے جبکہ انڈس ڈائینگ کے بھاؤ57.22 روپے کم ہو کر 1087.28 روپے اور مچلز فروٹ کے بھاؤ40.54 روپے کم ہوکر770.38 روپے ہو گئے۔