مہنگائی اور کیش سبسڈی
تین سال ہوگئے مہنگائی کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا، لارے لپے ہی ملے۔
تین سال ہوگئے مہنگائی کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا، لارے لپے ہی ملے۔ فوٹو : فائل
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں ، دنیا بھر میں ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں، کورونا سے اشیا کے فراہمی متاثر ہوئی اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔
سوال یہ ہے کہ وزیر خزانہ کتنی بار عوام کو اس بات کا یقین دلاتے رہیں گے کہ مہنگائی دنیا بھر میں بڑھی ہے، سب جانتے ہیں کہ جن ملکوں میں مہنگائی کا مسئلہ درپیش ہے ، وہاں حکومتیں فعال، انسان دوست اور ان کی اسکیمیں صارفین اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک ہی پیج پر ہوتی ہیں، لیکن ہمارے تجربات انتہائی الم ناک ہیں۔
تین سال ہوگئے مہنگائی کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا، لارے لپے ہی ملے، عوام پہلے تو مہنگائی کے رک جانے کا انتظار کرتے رہے، وہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے رہے مگر جب مہنگائی نے ڈیرے ڈال دیے، تو انھیں مہنگائی نے تنگ کرنا شروع کردیا۔ زندگی کے معمولات متاثر اور اشیائے ضرورت کی ہر چیز مہنگی سے مہنگی تر ہونے لگی تو ان کی تو چیخیں نکل گئیں، حقیقت یہ ہے وزیر خزانہ نے سبسڈی کی خبر دے کر غریبوں کو جینے کا حوصلہ دیا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی سبسڈی کے اقدامات پر فوری عمل ہو ، عوام کو جمہوری ثمرات بھی ان کی دہلیز پر ملیں، چیزیں سستی ہوں، آٹا، گھی، دالیں، چینی غریب آدمی کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں، دکاندار رنگ برنگی دالوں کے تھیلے سامنے رکھتے ہوئے محض یہ کہتے ہیں کہ اس دال کی قیمت کل 200 روپے کلو تھی آج 250 روپے کلو ہوگئی ہے، آخر کون قیمتیں بڑھاتا ہے اسے پوچھنے والا کوئی نہیں، ایسی حکمرانی کب اور کیسے عوام کے جمہوری خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرے گی جسے مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور عوام کی غربت اور بیروزگاری کا احساس ہی نہ ہو۔
بلاشبہ عوام کی برہمی کئی دنوں سے عروج پر تھی، لوگ اپنی غریبی اور مہنگائی کی بھرے لہجے سے صاف دو طرفہ مصیبت سے تنگ آگئے تھے، ان کا اضطراب مارکیٹ میں ان کی گفتگو اور غصے سے ظاہر ہوتا تھا، وہ حکومت کو سخت برا بھلا کہتے اور دل کی بھڑاس نکال لیتے تھے، جب وہ سنتے کہ چینی فی ٹن 430 ڈالر پر چلی گئی ہے۔
تو ان کو حال اللہ ہی جانتا ہے، شوکت ترین نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے، آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ معیشت جب بڑھتی ہے تو قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا، اب قرضے 39 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، یہ قرضے 2018 میں 25 ہزار 290 ارب روپے تھے، 2020 میں قرض بلحاظ جی ڈی پی 85.7 فیصد تھا اور 2021 میں یہ 81.1 فیصد ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام غریب عوام کا پروگرام ہے، اس کے لیے آئی ایم ایف رضامند ہوگیا ہے ،کامیاب پاکستان پروگرام میں ایسا کچھ نہیں کہ آئی ایم ایف رضامند نہ ہوتا۔ کامیاب پاکستان پروگرام گزشتہ ماہ میں شروع کیا جانا تھا ، آئی ایم ایف کی رضامندی نہ ہونے کے باعث پروگرام شروع نہیں ہو سکا تھا ، اب اسے رواں ماہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ اس حقیقت سے واقف ہونگے کہ غربت اور بیروزگاری کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد فاقوں کے قریب پہنچ چکی ہے، یہ درست ہے کہ بھوک سے کوئی نہیں مرا لیکن غربت و افلاس حکومت کے دعوؤں اور معیشت کے استحکام کی باتوں سے عام آدمی کا پیٹ نہیں بھر سکتی، ملک کو ایک مضبوط اقتصادی نظام اور دردمند معاشی مسیحاؤں کی داد رسی کی بر وقت ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے جو امدادی پیکیج دینے کا وعدہ کیا ہے اسے عوام تو پیکیج ہی کہیں گے، کیونکہ کافی دنوں کے بعد انھیں آٹا، چاول،دالیں، گھی، چینی اور دیگر اشیا سستی ملیں گی ارزانی کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
کراچی ایک بندہ پرور شہر کہلاتا تھا، جہاں دود دور سے لوگ روزگار کے لیے جوق در جوق شہر قائد چلے آتے تھے، اس کا یہ استحقاق اور انفرادیت قائم رہنی چاہیے ، ورنہ ان کی زبان پر اس گانے کے یہ بول بھی آ سکتے ہیں:
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
اسلام آباد میں دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں، کورونا سے اشیا کے فراہمی متاثر ہوئی اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔
سوال یہ ہے کہ وزیر خزانہ کتنی بار عوام کو اس بات کا یقین دلاتے رہیں گے کہ مہنگائی دنیا بھر میں بڑھی ہے، سب جانتے ہیں کہ جن ملکوں میں مہنگائی کا مسئلہ درپیش ہے ، وہاں حکومتیں فعال، انسان دوست اور ان کی اسکیمیں صارفین اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک ہی پیج پر ہوتی ہیں، لیکن ہمارے تجربات انتہائی الم ناک ہیں۔
تین سال ہوگئے مہنگائی کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا، لارے لپے ہی ملے، عوام پہلے تو مہنگائی کے رک جانے کا انتظار کرتے رہے، وہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے رہے مگر جب مہنگائی نے ڈیرے ڈال دیے، تو انھیں مہنگائی نے تنگ کرنا شروع کردیا۔ زندگی کے معمولات متاثر اور اشیائے ضرورت کی ہر چیز مہنگی سے مہنگی تر ہونے لگی تو ان کی تو چیخیں نکل گئیں، حقیقت یہ ہے وزیر خزانہ نے سبسڈی کی خبر دے کر غریبوں کو جینے کا حوصلہ دیا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی سبسڈی کے اقدامات پر فوری عمل ہو ، عوام کو جمہوری ثمرات بھی ان کی دہلیز پر ملیں، چیزیں سستی ہوں، آٹا، گھی، دالیں، چینی غریب آدمی کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں، دکاندار رنگ برنگی دالوں کے تھیلے سامنے رکھتے ہوئے محض یہ کہتے ہیں کہ اس دال کی قیمت کل 200 روپے کلو تھی آج 250 روپے کلو ہوگئی ہے، آخر کون قیمتیں بڑھاتا ہے اسے پوچھنے والا کوئی نہیں، ایسی حکمرانی کب اور کیسے عوام کے جمہوری خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرے گی جسے مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور عوام کی غربت اور بیروزگاری کا احساس ہی نہ ہو۔
بلاشبہ عوام کی برہمی کئی دنوں سے عروج پر تھی، لوگ اپنی غریبی اور مہنگائی کی بھرے لہجے سے صاف دو طرفہ مصیبت سے تنگ آگئے تھے، ان کا اضطراب مارکیٹ میں ان کی گفتگو اور غصے سے ظاہر ہوتا تھا، وہ حکومت کو سخت برا بھلا کہتے اور دل کی بھڑاس نکال لیتے تھے، جب وہ سنتے کہ چینی فی ٹن 430 ڈالر پر چلی گئی ہے۔
تو ان کو حال اللہ ہی جانتا ہے، شوکت ترین نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے، آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ معیشت جب بڑھتی ہے تو قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا، اب قرضے 39 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، یہ قرضے 2018 میں 25 ہزار 290 ارب روپے تھے، 2020 میں قرض بلحاظ جی ڈی پی 85.7 فیصد تھا اور 2021 میں یہ 81.1 فیصد ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام غریب عوام کا پروگرام ہے، اس کے لیے آئی ایم ایف رضامند ہوگیا ہے ،کامیاب پاکستان پروگرام میں ایسا کچھ نہیں کہ آئی ایم ایف رضامند نہ ہوتا۔ کامیاب پاکستان پروگرام گزشتہ ماہ میں شروع کیا جانا تھا ، آئی ایم ایف کی رضامندی نہ ہونے کے باعث پروگرام شروع نہیں ہو سکا تھا ، اب اسے رواں ماہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ اس حقیقت سے واقف ہونگے کہ غربت اور بیروزگاری کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد فاقوں کے قریب پہنچ چکی ہے، یہ درست ہے کہ بھوک سے کوئی نہیں مرا لیکن غربت و افلاس حکومت کے دعوؤں اور معیشت کے استحکام کی باتوں سے عام آدمی کا پیٹ نہیں بھر سکتی، ملک کو ایک مضبوط اقتصادی نظام اور دردمند معاشی مسیحاؤں کی داد رسی کی بر وقت ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے جو امدادی پیکیج دینے کا وعدہ کیا ہے اسے عوام تو پیکیج ہی کہیں گے، کیونکہ کافی دنوں کے بعد انھیں آٹا، چاول،دالیں، گھی، چینی اور دیگر اشیا سستی ملیں گی ارزانی کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
کراچی ایک بندہ پرور شہر کہلاتا تھا، جہاں دود دور سے لوگ روزگار کے لیے جوق در جوق شہر قائد چلے آتے تھے، اس کا یہ استحقاق اور انفرادیت قائم رہنی چاہیے ، ورنہ ان کی زبان پر اس گانے کے یہ بول بھی آ سکتے ہیں:
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے