افغانستان صورتحال اور امریکی عزائم

بائیڈن انتظامیہ جلد پاکستان سے امریکا کے تعلقات پر نظرثانی کرنے جا رہی ہے۔


Editorial September 15, 2021
بائیڈن انتظامیہ جلد پاکستان سے امریکا کے تعلقات پر نظرثانی کرنے جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل پر امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔

کانگریس کی خارجہ امورکمیٹی میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیندہ ہفتوں میں پاکستان سے تعلقات پر توجہ مرکوز رکھیں گے، جائزہ لیں گے کہ افغانستان میں امریکا کیا کرنا چاہتا ہے اور پاکستان سے کیا توقعات ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے عزائم غیر معمولی محسوس ہوتے ہیں، ایک بڑی امریکی کچھڑی پکائی جارہی ہے، لگتا ہے کہ افغانستان کی صورتحال ''برمودا ٹرائی اینگل'' بن گئی ہے۔

امریکا سمیت دیگر بڑی طاقتیں طالبان سے اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں، ان کے لب ولہجے کی کاٹ اور بیانات میں شدت و برہمی پہلے جیسی نہیں رہی۔ امریکا گزشتہ دنوں سے افغان حکام سے مسلسل کہہ رہا ہے کہ وہ باتوں پر نہیں طالبان کے عمل کو دیکھیں گے، انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے متعدد مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے مفادات سے اختلاف رکھتے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ جلد پاکستان سے امریکا کے تعلقات پر نظرثانی کرنے جا رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں بد ترین صورتحال کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جب کہ گزشتہ انتظامیہ نے افغانستان سے متعلق ڈیڈ لائن بتائی تھی،کوئی منصوبہ نہیں دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی ترجیح امریکیوں کی زندگیاں محفوظ بنانا تھی، پیشگوئی نہیں تھی امریکی افواج کی موجودگی میں افغان فورسز اتنی جلد پسپا ہوجائیں گی۔ بلنکن نے مزید کہا کہ افغانستان کو اس وقت تک تسلیم نہ کیا جائے جب تک طالبان افغانستان سے نکلنے کے خواہشمندوں کو جانے کی اجازت نہیں دیتے اور افغان سر زمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بننے کے وعدے کی پاسداری نہیں کرتے۔

دریں اثناء وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام اور امن درکار ہے۔ امن اس وقت تک مستحکم و پختہ نہیں ہوسکتا جب تک افغانستان کو درکار معاشی اور مالیاتی ضرورت فراہم نہیں ہوتی۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جانا چاہیے۔ افغانستان میں عوام کو انسانی بنیادوں پر نہایت ضروری مدد کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسائل انتہائی کٹھن ہیں۔

افغانستان کے ایک کروڑ80 لاکھ عوام کو اس صورتحال میں انسانی بنیادوں پر امداد کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت ترقیاتی نئی شراکت داریوں کی ضرورت ہے، قوم کی تعمیر میں حمایت درکار ہے اور افغان آبادی کی انسانی بنیادوں پر مطلوب ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔ پائیدار حل کا تقاضا ہے کہ ترقیاتی منصوبہ جات لائے جائیں، روزگار کی فراہمی کے مواقعے پیدا کیے جائیں اور خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کی افغان عوام تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پنجشیر میں طالبان سے کسی قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ کسی بربریت کا مظاہرہ کیا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان کی امداد کا سلسلہ جاری ہے، یورپی ممالک کو اس بات پر تشویش ہے کہ افغانستان کی معاشی بد حالی کسی سانحہ کو جنم نہ دے اس سے خطے میں خانہ جنگی کا بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

بنیادی مسائل طالبان کے سیاسی رویے اور ان کی تشکیل حکومت کے فیصلوں اور اندازکا ہے، وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے اور مغرب جمہوری نظام سے ہی مطابقت پر زور دیتا ہے، جب کہ امریکا نے طالبان کے چند عہدیداروں پر سنگین الزامات لگائے ہیں، جوبائیڈن انتظامیہ کے رابطے کسی سے ہیں، اب جب کہ امریکا نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کو بھی مشروط رکھا ہے صورتحال ایک نئے رخ پر جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ افغانستان کو مکمل امن چاہیے اور اسے اپنے کمٹمنٹس کو پورا کرنے کے لیے کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا چاہیے۔ مدبرین امریکا اور افغانستان میں مفاہمت کا راستہ نکالیں، امریکا کو برہم رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں اس میں نقصان زیادہ ہے۔

طالبان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ امریکا ایک زخمی شیر ہے اسے بیس سال کی ہزیمت صرف اسی صورت مطمئن کرسکتی ہے کہ طالبان ایک مفاہمانہ، قابل دید اور موثر سیاسی سسٹم لائیں، خواتین کے انسانی حقوق کی پاسداری کریں اور دنیا کو اپنے عمل سے مطمئن کریں۔ امریکی یاد دہانی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اس کی طالبان سے برہمی گہری معنویت کی حامل ہے، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

انٹونی بلنکن نے پاکستان سے تعلقات پر نظر ثانی کی بات کی ہے، ارباب اختیار دیکھیں کہ امریکا کے عزائم کیا ہیں، معاملہ پیچیدہ ہے، کوشش ہونی چاہیے کہ امریکا سے صائب تبادلہ خیال کا کوئی امکان پیدا ہوجائے، اسی میں سب کا مفاد ہے۔

مقبول خبریں