’’مسلمانوں سے بھارتی شہریت چھین لی جائے‘‘ انتہا پسند ہندو رہنما کی دھمکی
انتہاپسند ہندو رہنما پرم ہنس نے مودی سرکار سے 2 اکتوبر تک بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا مطالبہ کردیا
بھارت کو ہندو ریاست کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں 2 اکتوبر کو جل سمادھی ہوگی، اچاریہ مہاراج.فوٹو:سوشل میڈیا
انتہا پسند ہندو رہنما سنت پرم ہنس نے بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے 2 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق، مودی کا بھارت انتہا پسند ہندوتوا پالیسی پر گامزن ہے۔ اب انتہا پسند ہندو رہنما سنت پرم ہنس اچاریہ نے بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اور اپنی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ بھارت کو ہندو ریاست کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں 2 اکتوبر کو جل سمادھی ہوگی۔
انتہا پسند رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ دو اکتوبر تک بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں اور عیسائیوں کی بھارتی شہریت بھی چھین لی جائے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق، مودی کا بھارت انتہا پسند ہندوتوا پالیسی پر گامزن ہے۔ اب انتہا پسند ہندو رہنما سنت پرم ہنس اچاریہ نے بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اور اپنی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ بھارت کو ہندو ریاست کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں 2 اکتوبر کو جل سمادھی ہوگی۔
انتہا پسند رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ دو اکتوبر تک بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں اور عیسائیوں کی بھارتی شہریت بھی چھین لی جائے۔