کورونا کی وجہ سے ایئرلائن انڈسٹری کا نقصان 200 ارب ڈالرسے تجاوز کرگیا
دنیا بھر میں ہوا بازی کی صنعت کو کورونا کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے نکلنے کے لیے وقت لگے گا، آئی اے ٹی اے (فوٹو: فائل)
عالمگیر وبا کورونا نے دنیا بھر میں کچھ نئی صنعتوں کو بے تحاشا فروغ دیا تو ہمیشہ سے منافع میں رہنے والی کچھ صنعتیں ریت کی دیوار کی طرح زمین بوس ہوگئیں۔ جن میں سے ایک صنعت ہوا بازی کی ہے، کورونا کی وجہ سے ہوا بازی کی صنعت کو پہنچے والا نقصان 200 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2020 سے 2022 میں ایئر لائن انڈسٹری کو پہنچنے والا نقصان ان کے 9 سال میں کمائے گئے منافع کو کھا چکا ہے۔
ممتاز مالیاتی ویب سائٹ بلومبرگ میں شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) نے امریکی شہر بوسٹن میں ہونے والی سالانہ کانفرنس میں کہا ہے کہ اگلے سال تک مجموعی طور پر فضائی صنعت کو مزید 11 ارب 60 کروڑ ڈالر نقصان اٹھانا ہوگا۔ اگر چہ ملکی اور علاقائی پروازوں کا آغاز ہوچکا ہے تاہم دنیا بھر میں ہوا بازی کی صنعت کو کورونا کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے نکلنے کے لیے وقت لگے گا۔
IATA کے اعداد و شمار کے مطابق وبا کے دوران ہوا بازی کی صنعت کو مجموعی طور پر 201 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، جو کہ اس صنعت کی 9 سالہ آمدن کے برابر ہے۔ ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ہم نے رواں سال کے لیے اپنے نقصان کے تخمینے کو بڑھا تے ہوئے 2022 کے خسارے پر بھی نظر ثانی کی ہے۔
IATA کے ڈائریکٹر جنرل ولی ویلش کا اس بارے میں کہنا ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے ایئر لائنز کو پہنچے والے نقصان کی وسعت بہت زیادہ ہے۔ لوگوں میں سفر کرنے کی خواہش ختم نہیں ہوئی ہے کیونکہ ملکی مارکیٹ میں سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن انہیں کورونا کی پیچیدگیوں، غیر یقینی صورت حال اور پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی سفر کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ سفر پر پابندیوں کو کم کرتے ہوئے ویکسینیٹڈ مسافروں کو ہی آزادی سے ملکوں کے درمیان سفر کرنے کی اجازت دے دیں۔ حکومتوں کی جانب سے کورونا کے آغاز پر سفری پابندیاں عائد کی گئی تھی، اور اب تقریباً دو سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔ اور عقلی طور پر اسے مزید طویل نہیں ہونا چاہیئے۔
IATA کی پیش گوئی کے مطابق رواں سال ہوا بازی کی صنعت کو 52 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا، جب کہ رواں سال اپریل میں یہ اندازہ 48 ارب ڈالر لگایا گیا تھا، جب کہ گزشتہ سال نقصان کا اندازہ 126 ارب ڈالر تھا لیکن یہ بڑھ کر 138 ارب ڈالر ہوگیاتھا۔
ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق ہوا بازی کی صنعت کو توقع ہے کہ ہوائی سفر بحال ہوتے ہی مسافروں کا رش بڑھے گا، اور ہمیں رواں سال مسافروں کا لوڈ 67 فیصد اور 2022 میں 75 فیصد تک جانے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) گلوبل ٹریفک کا 82 فیصد رکھنے والی 290 ایئر لائنز کی نمائندگی کرتی ہے۔