بھارت میں سیلزپرسن کو کام کے دوران بیٹھنے کی اجازت مل گئی

بھارت میں دکانوں پر کام کرنے والی خواتین کو 10 گھنٹے تک کھڑے رہ کر ہی دکان داری کرنی پڑتی ہے، رپورٹ

بھارت میں دکانوں پر کام کرنے والی خواتین کو 10 گھنٹے تک کھڑے رہ کر ہی دکان داری کرنی پرتی ہے، رپورٹ۔(فوٹو : اے ایف پی)

دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا پرچار کرتا ہے لیکن اس کے اپنے ہی ملک میں ملازمین کو کام کے دوران بیٹھنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

الجزیرہ میں شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تامل ناڈو بھارت کی دوسری ریاست بن گئی ہے جہاں دکانوں پر کام کرنے والی خواتین کو کام کے دوران بیٹھنے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں دکانوں پر کام کرنے والے افراد جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے انہیں 10 گھنٹے کے ڈیوٹی ٹائم میں صرف 20 منٹ کھانے کا وقفہ دیا جاتا ہے اور وہ صرف کھانے کے وقفے کے دوران ہی بیٹھ سکتے تھے۔

ایسی ہی ایک خاتون 40 سالہ ایس لکشمی نے الجزیرہ کو بتایا کہ انہیں دکان پر ملازمت کرتے ہوئے ایک دہائی سے زائد عرصہ گذر چکا ہے۔ کام کے دوران پورے 10 گھنٹے تک انہیں بیٹھنے یا کسی چیز کا سہارا لینے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ کسی گاہک کے نہ ہونے کی صورت میں بھی ہمارا فرش پر بیٹھنا ممنوع تھا۔ صرف لنچ بریک کے نام پر ملنے والے 20 منٹس کے وقفے میں ہم بیٹھ کر اپنی ٹانگوں کو آرام دے سکتے تھے۔


انہوں نے مزید بتایا کہ وہ روزانہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ٹانگوں میں مسلسل درد اور سوجی ہوئے ٹخنوں کے ساتھ گھر واپس جاتی تھی، تاہم اب اس قانون کی بدولت ان کی زندگی میں تھوڑا سکون آنے کی امید ہے۔ تامل ناڈو میں گزشتہ ماہ ہی 'رائٹ ٹو سِٹ' کے نام سے منظور ہونے والے اس قانون میں دکان مالکان کو کام کرنے والے مرد و خواتین کے بیٹھنے کے لیے مناسب انتظام کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

خوردہ فروشی (ریٹیل) بھارت کی تیزی سے بڑھتی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، اور جی ڈی پی میں اس کا حصہ 10 فیصد ہے، لیکن پورے بھارت خصوصاً جنوبی ریاستوں میں جیولری، ساری اور کپڑے کی دکانیں چلانے والے بڑے کاروباری خاندانوں کی اجارہ داری ہے جو خواتین گاہکوں کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی خواتین کو اپنے یہاں ملازم رکھتے ہیں۔ جنہیں نہ صرف کم اجرتیں دی جاتی ہیں، بلکہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھی روا رکھا جاتا ہے، جس میں سب سے بد ترین سلوک ملازمین کو بیٹھنے کی اجازت نہ دینا ہے۔ جس کے خلاف 2018 میں تامل ناڈو کی پڑوسی ریاست کیرالہ میں ایک قانون لایا گیا تھا۔ کیرالہ کے بعد تامل ناڈو دوسری ریاست بن گئی ہے جہاں ملازمین کو کام کے دوران بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس نئے قانون کے بارے میں تامل ناڈو کے لیبر سیکریٹری آر کرلوش کمار کا کہنا ہے کہ ہم نے دکانوں پر چھاپے مارنے شروع کردیے ہیں اور جہاں ملازمین کے بیٹھنے کے لیے اسٹول یا کرسیاں نہیں ہیں تو ان دکانوں پر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔

تاہم پورے بھارت کی 5 لاکھ دکانوں کی نمائندہ تنظیم ' دی ریٹیل ایسوسی ایشن آف انڈیا ' کی جانب سے تاحال اس قانون کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
Load Next Story