طالبان کے آنے کے بعد افغان خواتین کی امیدیں دم توڑنے لگیں

افغانستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ خواتین سمیت دیگر کو کام پر واپس لوٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے

افغانستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ خواتین سمیت دیگر کو کام پر واپس لوٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے

تائی کوانڈو کی 19 سالہ افغان مرضیہ حمیدی کے بڑے خواب تھے، وہ شوق سے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کے خواب دیکھا کرتی تھیں لیکن اگست میں طالبان کی آمد کے بعد ان کی امیدیں اور توقعات دھندلانے لگی ہیں۔ ستمبرمیں انھیں چھپنا بھی پڑا جب انھیں یہ پتہ چلا کہ ان کے گروپ کے کچھ لوگ ان کی تلاش میں آئے تھے۔

مرضیہ حمیدی نے غیر ملکی خبررساں ادارے (الجزیرہ) سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب طالبان برسراقتدار آئے تو انھوں نے اپنے سارے تمغے تباہ کرنے یا جلانے کے بارے میں بھی سوچا تھا، مرضیہ کے انسٹاگرام پر 20 ہزار سے زائد فالوورز ہیں لیکن ان دنوں وہ تاریک ہے، اب انھوں نے نئے افغان حکمرانوں کے ڈر سے سیاہ عبایا اور اسی رنگ سے ملتا جلتا حجاب پہننا شروع کردیا ہے، خوف کی اس صورت حال کا سامنا کرنے والی مرضیہ اکیلی نہیں ہیں بلکہ بہت سی افغان خواتین جبری طور پر منظرعام سے ہٹ جانے کے اندیشوں میں مبتلا ہیں جس سے وہ طالبان کے زیرقبضہ افغانستان کے پہلے پانچ سالہ دور میں گزر چکی ہیں۔


ایک اور خاتون مینا نعیمی جو ایک غیرملک کمپنی کے لیے کام کرتی ہیں، طالبان کی آمد کے بعد افغانستان چھوڑ سکتی تھیں لیکن وہ پشتو ادب میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باعث ملک سے باہر نہیں گئیں تاہم وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک مواقع تلاش کرنا چاہتی ہیں۔

طالبان نے حکومت میں آنے کے بعد خواتین کے حقوق کا خیال رکھنے اور انھیں شریعت کے مطابق عام زندگی گزارنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک ثانوی گرلز اسکولز بند ہیں اور صحت کے شعبے کے علاوہ متعدد خواتین کو کام پر واپس لوٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

گذشتہ ماہ کئی شہروں میں خواتین کی جانب سے اپنے حقوق کے لیے مظاہرے بھی کیے گئے تھے جنھیں طاقت کے زور پر دبا دیا گیا تھا۔
Load Next Story