ناسا کے خلا باز ڈائپر پہننے پر مجبور
رواں سال ستمبر میں بھی اسپیس ایکس کے خلائی کیپسول میں ٹیوب ڈھیلی ہوجانے کی وجہ سے پیشاب فرش کے نیچے پھیل گیا تھا
رواں سال ستمبر میں بھی اسپیس ایکس کے خلائی کیپسول میں ٹیوب ڈھیلی ہوجانے کی وجہ سے پیشاب فرش کے نیچے پھیل گیا تھا۔(فوٹو: انٹرنیٹ)
KARACHI:
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے واپس آنے والے خلابازوں نے ڈائپرز پہن لیے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ( آئی ایس ایس) سے زمین پر واپسی کا سفر کرنے والی ناسا کی خلا نورد میگن میک آرتھر نے مدار سے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس خلائی پرواز میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا تاہم ہم نے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مشن کو مکمل کیا۔ انہوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ ہمیں سب سے بڑا مسئلہ بیت الخلا کا درپیش رہا کیوں کہ ان کے کیپسول کا بیت الخلا ٹوٹ گیا۔
فرانسیسی خلانورد تھوماس پیکیوئٹ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ خلا میں گزرے 6 ماہ بہت سخت تھے، وہاں ہم نے خلائی اسٹیشن کے پاور گرڈ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے خلا میں چہل قدمی کی مختلف سیریز کی۔ خلائی کیپسول کے بیت الخلا میں خرابی کا انکشاف اس وقت ہوا جب اتوار کو واپسی کے لیے تیار خلانوردوں نے آن بورڈ کیپسول کے فرشی پینلز کو ہٹایا۔ اس خرابی کی بنا پر خلا باز 20 گھنٹے طویل واپسی کے سفر میں ٹوٹے ہوئے بیت الخلا کو استعمال کرنے کے بجائے مائع جذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والے زیر جامے پہنیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال ستمبر میں بھی اسپیس ایکس کے خلائی کیپسول میں یہ مسئلہ سامنے آیا تھا اور نجی فلائٹ کے دوران ٹیوب ڈھیلی ہوجانے کی وجہ سے پیشاب فرش کے نیچے پھیل گیا تھا۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے واپس آنے والے خلابازوں نے ڈائپرز پہن لیے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ( آئی ایس ایس) سے زمین پر واپسی کا سفر کرنے والی ناسا کی خلا نورد میگن میک آرتھر نے مدار سے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس خلائی پرواز میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا تاہم ہم نے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مشن کو مکمل کیا۔ انہوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ ہمیں سب سے بڑا مسئلہ بیت الخلا کا درپیش رہا کیوں کہ ان کے کیپسول کا بیت الخلا ٹوٹ گیا۔
فرانسیسی خلانورد تھوماس پیکیوئٹ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ خلا میں گزرے 6 ماہ بہت سخت تھے، وہاں ہم نے خلائی اسٹیشن کے پاور گرڈ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے خلا میں چہل قدمی کی مختلف سیریز کی۔ خلائی کیپسول کے بیت الخلا میں خرابی کا انکشاف اس وقت ہوا جب اتوار کو واپسی کے لیے تیار خلانوردوں نے آن بورڈ کیپسول کے فرشی پینلز کو ہٹایا۔ اس خرابی کی بنا پر خلا باز 20 گھنٹے طویل واپسی کے سفر میں ٹوٹے ہوئے بیت الخلا کو استعمال کرنے کے بجائے مائع جذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والے زیر جامے پہنیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال ستمبر میں بھی اسپیس ایکس کے خلائی کیپسول میں یہ مسئلہ سامنے آیا تھا اور نجی فلائٹ کے دوران ٹیوب ڈھیلی ہوجانے کی وجہ سے پیشاب فرش کے نیچے پھیل گیا تھا۔