بگ تھری ڈرافٹ آئی سی سی آئین کیخلاف ہے سری لنکا
کونسل کے لیگل افیئر سربراہ ای ین ہنگز کو خط لکھ کر وضاحت طلب کرلی گئی
کونسل کے لیگل افیئر سربراہ ای ین ہنگز کو خط لکھ کر وضاحت طلب کرلی گئی۔ فوٹو: فائل
سری لنکا نے آئی سی سی میں پیش ڈرافٹ پوزیشن پیپر کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھادیا، بورڈ چیف نے معاملے پر کونسل کے لیگل افیئر سربراہ ای ین ہنگز کو باقاعدہ خط لکھ دیا، ان سے مختلف پہلوئوں پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا کرکٹ نے گذشتہ روز بگ تھری منصوبے کو مسترد کردیا تھا، ایس ایل سی کو اس کے قانونی ماہرین نے بتایا تھا کہ ڈرافٹ پیپر دراصل آئی سی سی کے اپنے آئین کے ہی خلاف ہے جبکہ یہی بات اس سے قبل جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ بھی کہہ چکا ہے۔ اب سری لنکا کرکٹ کے صدر دھرما داسا نے آئی سی سی لیگل ہیڈ ای ین ہگنز کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ 'ہم نے اپنی لیگل ایڈوائزری کمیٹی سے مجوزہ تجاویز پر رائے طلب کی جن کا کہنا تھا کہ ان تجاویز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس لیے ہم نے آپ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ آپ آئی سی سی کے قانونی ہیڈ ہیں اور اس ناطے سے آپ کی ذمہ داری ہے کہ ممبران کے سامنے کوئی بھی ڈرافٹ لانے سے قبل اس کو آئی سی سی کے آئین کی روشنی میں پرکھیں، اس لیے ہم آپ سے اپنے خدشات کی وضاحت چاہتے ہیں۔
آئی سی سی کے میمورینڈم آف ایسوسی ایشن میں واضح طور پر ہے کہ آئی سی سی کی سرپلس آمدنی میں سے 75 فیصد فل ممبران میں یکساں طور پر تقسیم ہوگا، اس صورت میں نئے ماڈل کی کیا حیثیت ہے جس میں فیلڈ پرفارمنس، کھیل میں تاریخی کردار اور زیادہ ریوینیو دینے کے حساب سے آمدنی تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا گیا ہے، اسی طرح ٹیسٹ کرکٹ فنڈ کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں، نئے ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ کی بات ہورہی ہے تو پھر بورڈز کے درمیان رائج موجودہ فیوچر ٹور پروگرام کی کیا حیثیت ہوگی، پہلے ہی ممبران میں آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کے منظور شدہ ایف ٹی پی کے تحت معاہدے ہوچکے اور اسی کی روشنی میں نشریاتی معاہدے بھی طے پاگئے اور کئی بورڈز نے اداروں سے رقم بھی وصول کرلی ہے، ہم آپ سے یہ وضاحت چاہتے ہیں کہ آپ نے ان سب چیزوں کا اچھی طرح جائزہ لے لیا اور آئی سی سی کو اس بارے میں خبردار کرچکے ہیں کہ اس ڈرافٹ پیپر کی منظوری سے ممبرز کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا کرکٹ نے گذشتہ روز بگ تھری منصوبے کو مسترد کردیا تھا، ایس ایل سی کو اس کے قانونی ماہرین نے بتایا تھا کہ ڈرافٹ پیپر دراصل آئی سی سی کے اپنے آئین کے ہی خلاف ہے جبکہ یہی بات اس سے قبل جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ بھی کہہ چکا ہے۔ اب سری لنکا کرکٹ کے صدر دھرما داسا نے آئی سی سی لیگل ہیڈ ای ین ہگنز کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ 'ہم نے اپنی لیگل ایڈوائزری کمیٹی سے مجوزہ تجاویز پر رائے طلب کی جن کا کہنا تھا کہ ان تجاویز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس لیے ہم نے آپ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ آپ آئی سی سی کے قانونی ہیڈ ہیں اور اس ناطے سے آپ کی ذمہ داری ہے کہ ممبران کے سامنے کوئی بھی ڈرافٹ لانے سے قبل اس کو آئی سی سی کے آئین کی روشنی میں پرکھیں، اس لیے ہم آپ سے اپنے خدشات کی وضاحت چاہتے ہیں۔
آئی سی سی کے میمورینڈم آف ایسوسی ایشن میں واضح طور پر ہے کہ آئی سی سی کی سرپلس آمدنی میں سے 75 فیصد فل ممبران میں یکساں طور پر تقسیم ہوگا، اس صورت میں نئے ماڈل کی کیا حیثیت ہے جس میں فیلڈ پرفارمنس، کھیل میں تاریخی کردار اور زیادہ ریوینیو دینے کے حساب سے آمدنی تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا گیا ہے، اسی طرح ٹیسٹ کرکٹ فنڈ کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں، نئے ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ کی بات ہورہی ہے تو پھر بورڈز کے درمیان رائج موجودہ فیوچر ٹور پروگرام کی کیا حیثیت ہوگی، پہلے ہی ممبران میں آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کے منظور شدہ ایف ٹی پی کے تحت معاہدے ہوچکے اور اسی کی روشنی میں نشریاتی معاہدے بھی طے پاگئے اور کئی بورڈز نے اداروں سے رقم بھی وصول کرلی ہے، ہم آپ سے یہ وضاحت چاہتے ہیں کہ آپ نے ان سب چیزوں کا اچھی طرح جائزہ لے لیا اور آئی سی سی کو اس بارے میں خبردار کرچکے ہیں کہ اس ڈرافٹ پیپر کی منظوری سے ممبرز کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔