بجلی بلوں میں ایکولائزیشن سرچارج کے نام پر عوام کو لوٹا جارہا ہے لاہور ہائیکورٹ

سرچارج کی قانونی حیثیت کے متعلق وضاحت کی جائے: عدالت، سیکریٹری پانی و بجلی کے پیش نہ ہونے پر برہمی، تفصیلی جواب طلب

سی این جی اسٹیشنز کی بندش پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کونوٹس، طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دینے کی درخواست قابل سماعت قرار۔ فوٹو: فائل

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان نے قرار دیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں ایکولائزیشن سرچارج کے نام پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔

جمعرات کو سماعت کے دوران فاضل جج نے بار بار نوٹس کے باوجود سیکریٹری پانی و بجلی کے پیش نہ ہونے اور جواب داخل نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت نوٹس جاری کر رہی ہے اور سیکریٹری پانی وبجلی جواب نہیں دے رہے، کیا وہ گھر میں سو رہے ہیں؟۔ سرچارج کی قانونی حیثیت کی وضاحت کی جائے۔




عدالت نے سماعت 20 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے سیکریٹری پانی وہ بجلی اور این ٹی ڈی سی سے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ملتوی کرکے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے15 روز میں جواب طلب کرلیا۔ جمعرات کواوگرا کے وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ دریں اثنا چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے طالبان کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی اجازت دینے کی درخواست پر ہائیکورٹ آفس کااعتراض ختم کرتے ہوئے اسے قابل سماعت قرار دیدیا اور ہدایت کی کہ درخواست کو سماعت کے لیے لگایا جائے۔ یہ درخواست ساڑھے 3 ماہ قبل دائر کی گئی تھی۔
Load Next Story