باس نے ملازمین کے فون چارج کرنے کو ’’بجلی کی چوری‘‘ قرار دے دیا
اگر کوئی موبائل چارج کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کی تنخوا سے کٹوتی کی جائے گی، باس
اگر کوئی موبائل چارج کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کی تنخوا سے کٹوتی کی جائے گی، باس - فوٹو:فائل
کیا آپ کو دفتر میں اپنا موبائل فون چارج کرنے کی اجازت ہے؟ یقیناً ہوگی مگر امریکا میں ایک نجی دفتر میں ملازمین کے موبائل فون چارج کرنے کو ''بجلی کی چوری'' قرار دے دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ملازمین کے لیے باس کی جانب سے لکھا گیا ایک نوٹ خوب وائرل ہو رہا ہے جس میں کام کے دوران ملازمین کے موبائل فون چارج کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ملازمین نے تو باس کے نوٹ کو سنجیدہ لے لیا ہوگا لیکن سوشل میڈیا صارفین اس کا خوب مذاق بنا رہے ہیں۔
باس نے نوٹ میں لکھا ہے کہ دفتر میں کسی ملازم کو موبائل فون یا کوئی اور الیکٹرانک ڈیوائس چارج کرنے کی اجازت نہیں، یہ بجلی کی چوری ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے پر ملازم کی تنخوا سے کٹوتی کی جا سکتی ہے لہٰذا کام کے دوران تمام ملازمین کے موبائل فونز بند ہونے چاہییں۔
سوشل میڈیا پر ملازمین کے لیے باس کی جانب سے لکھا گیا ایک نوٹ خوب وائرل ہو رہا ہے جس میں کام کے دوران ملازمین کے موبائل فون چارج کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ملازمین نے تو باس کے نوٹ کو سنجیدہ لے لیا ہوگا لیکن سوشل میڈیا صارفین اس کا خوب مذاق بنا رہے ہیں۔
باس نے نوٹ میں لکھا ہے کہ دفتر میں کسی ملازم کو موبائل فون یا کوئی اور الیکٹرانک ڈیوائس چارج کرنے کی اجازت نہیں، یہ بجلی کی چوری ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے پر ملازم کی تنخوا سے کٹوتی کی جا سکتی ہے لہٰذا کام کے دوران تمام ملازمین کے موبائل فونز بند ہونے چاہییں۔