تکیوں کی لڑائی کو باقاعدہ کھیل میں شامل کرلیا گیا

لیکن اس لڑائی میں خاص تکیے استعمال ہوتے ہیں جن سے لگنے والی چوٹ بھی شدید ہوسکتی ہے

امریکہ میں تکیوں کی لڑائی کو باقاعدہ کھیل کا درجہ دیدیا گیا ہے۔ فوٹو: رائٹرز

کراچی:
بچپن میں ہم نے اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں سے تکیوں کی لڑائی لڑی ہوگی لیکن اب اسے باضابطہ طور پر ایک کھیل کی صورت دی جاچکی ہے۔

اس ضمن میں جاپان کے بعد اب امریکہ میں بھی باقاعدہ پِلو فائٹ چیمپیئن شپ (پی ایف سی) کا آغاز ہوچکا ہے اور اس کی پہلی تقریب اس سال جنوری میں منعقد ہوئی جبکہ اگلے سال مزید مقابلے رکھے گئے ہیں۔ ان مقابلوں کو فیس کے بدلے براہِ راست دیکھا جاسکتا ہے۔

اس تصور کے پیچھے اسٹیو ولیمز ہیں جو بچپن سے ہی تکیوں کی لڑائی میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن وہ اسے پروفیشنل کامبیٹ اسپورٹس میں شامل کرانے کے لیے عرصے سے تگ ودو کررہے تھے۔ تاہم یہ کوئی بے ضرر کھیل نہیں رہا کیونکہ اس میں مکسڈ مارشل آرٹ کے کھلاڑی بڑی تیزی اور مہارت سے تکیہ گھماکر اپنے فریق کے منہ پر مارتے ہیں۔




اسٹیو ولیمز نے کہا کہ یہ کھیل مضحکہ خیز نہیں کہ پھٹتے ہوئے تکیوں سے اڑنے والے پروں کو دیکھ کر ہنسا جائے بلکہ یہ باقاعدہ ایک لڑائی والا کھیل ہے جس میں چہرے کے ساتھ ساتھ بدن میں ہرجگہ تکلیف ہوسکتی ہے۔ اس مقابلے میں باکسنگ اور مکسڈ مارشل آرٹس کے کھلاڑی شامل ہوئے تھے جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: جاپان میں تکیوں سے لڑائی کی سالانہ چیمپئن شپ

'کھلاڑی زخموں کو پسند نہیں کرتے۔ پھر بہت سے تماشائی بھی خون دیکھنے سے اجتناب کرتے ہیں بلکہ وہ تشدد کی بجائے وہ ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنا چاہتے ہیں،' اسٹیو نے کہا۔

پی ایف سی کے مطابق اسے متبادل کھیل کی بجائے مرکزی اور نیا کھیل قرار دینا ہی درست ہوگا۔
Load Next Story