کارکنوں کا ماورائے عدالت قتلمتحدہ کی درخواست پر وزیر داخلہ ڈی جی رینجرز آئی جی و دیگر کو نوٹس
درخواست فہدعزیز،انکے والدعبدالعزیز اورایم کیوایم کی طرف سے دائرکی گئی
کراچی:ایم کیوایم کے کارکن پرمبینہ تشددکیخلاف فاروق ستارہائیکورٹ میںپٹیشن دائرکررہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دائرکردہ درخواست پروفاقی وصوبائی وزارت داخلہ، ڈی جی رینجرزسندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہدحیات، ایس ایس پی ایسٹ اورایس ایچ اوشاہ فیصل کالونی کو 11 فروری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ79 کے کارکن فہدعزیز، فہد عزیز کے والد عبدالعزیز اورمتحدہ قو می موومنٹ بتوسط رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرفاروق ستارکی درخواست میں وفاقی و صوبائی حکومت، ڈائریکٹرجنرل پاکستان رینجرز کے ساتھ ساتھ کراچی پولیس کے 3افسران کو ذاتی طور پر فریق بناتے ہوئے ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن روکنے اورمدعا علیہان پولیس افسران کوفوری طورپر معطل کرنے کی استدعاکی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیاہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کررکھا ہے۔ ایم کیوایم کے کارکنوں کوغیرقانونی طورپر حراست میں لے کرتشدد کانشانہ بنایاجاتا ہے اورماورائے عدالت قتل کرکے لاش پھینک دی جاتی ہے۔ ایم کیوایم کے 8کارکنوں کو اب تک ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے اور 45تاحال لاپتاہیں۔ حال ہی میں ایک کارکن سلمان کوحراست میں لے کر بدترین تشددکا نشانہ بنایاگیا اورماورائے عدالت قتل کرکے لاش سڑک پرپھینک دی گئی۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیاکہ متحدہ کے کارکن فہدعزیز اور محمدریحان کوقانون نافذکرنے والے اداروں نے 8فروری کی شب ساڑھے 10 بجے اس وقت شاہ فیصل کالونی فلائی اوورسے گرفتارکیا جب فہدعزیز کی برات شادی کے بعددلہن کے ہمراہ واپس کورنگی جارہی تھی۔ درخواست گزاروں کے رشتے داروں نے شاہ فیصل پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیالیکن پولیس نے انکارکیا۔ بعدازاں اسے تشددکا نشانہ بنایا گیا جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ فہدعزیز کوتعزیرات پاکستان کی دفعہ54 کے تحت حراست میںلینے کادعویٰ کیاگیا جوکہ نقص امن سے متعلق ہے۔ قانون نافذکرنے والوںکا ایم کیوایم کے کارکنوں کو غیرقانونی حراست میں لے کربدترین تشددکا نشانہ بناناآئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعدمدعا علیہان، ڈپٹی اٹارنی جنرل اورایڈووکیٹ جنرل کومنگل کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ79 کے کارکن فہدعزیز، فہد عزیز کے والد عبدالعزیز اورمتحدہ قو می موومنٹ بتوسط رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرفاروق ستارکی درخواست میں وفاقی و صوبائی حکومت، ڈائریکٹرجنرل پاکستان رینجرز کے ساتھ ساتھ کراچی پولیس کے 3افسران کو ذاتی طور پر فریق بناتے ہوئے ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن روکنے اورمدعا علیہان پولیس افسران کوفوری طورپر معطل کرنے کی استدعاکی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیاہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کررکھا ہے۔ ایم کیوایم کے کارکنوں کوغیرقانونی طورپر حراست میں لے کرتشدد کانشانہ بنایاجاتا ہے اورماورائے عدالت قتل کرکے لاش پھینک دی جاتی ہے۔ ایم کیوایم کے 8کارکنوں کو اب تک ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے اور 45تاحال لاپتاہیں۔ حال ہی میں ایک کارکن سلمان کوحراست میں لے کر بدترین تشددکا نشانہ بنایاگیا اورماورائے عدالت قتل کرکے لاش سڑک پرپھینک دی گئی۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیاکہ متحدہ کے کارکن فہدعزیز اور محمدریحان کوقانون نافذکرنے والے اداروں نے 8فروری کی شب ساڑھے 10 بجے اس وقت شاہ فیصل کالونی فلائی اوورسے گرفتارکیا جب فہدعزیز کی برات شادی کے بعددلہن کے ہمراہ واپس کورنگی جارہی تھی۔ درخواست گزاروں کے رشتے داروں نے شاہ فیصل پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیالیکن پولیس نے انکارکیا۔ بعدازاں اسے تشددکا نشانہ بنایا گیا جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ فہدعزیز کوتعزیرات پاکستان کی دفعہ54 کے تحت حراست میںلینے کادعویٰ کیاگیا جوکہ نقص امن سے متعلق ہے۔ قانون نافذکرنے والوںکا ایم کیوایم کے کارکنوں کو غیرقانونی حراست میں لے کربدترین تشددکا نشانہ بناناآئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعدمدعا علیہان، ڈپٹی اٹارنی جنرل اورایڈووکیٹ جنرل کومنگل کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔