شام میں باغیوں کے حملوں کے دوران 21 شہریوں سمیت 41 افراد ہلاک
صدربشارالاسد کے مخالف باغیوں نے جھڑپوں کے دوران تمام افرادکوصوبہ حما کے گاؤں الاوتی میں ہلاک کیا
،شامی فورسزکے لبنانی سرحد میں 2فضائی حملے، حمص سے مزید 300 محصورین کو نکال لیا گیا۔فوٹو:اے ایف پی
شام میں باغیوں نے جھڑپوں کے دوران 21 شہریوں اور 20 صدر بشارالاسد کے حامی جنگجوؤں کوہلاک کردیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق باغیوں نے تمام افرادکوصوبہ حماکے گائوں الاوتی میں ہلاک کیا۔ مرنے والوں میں سے 10 افرادکاتعلق ایک ہی گھرانے سے ہے۔ باغیوں نے بشار الاسد کی افواج سے وسطی صوبے ہاما کے گائوں کاکنٹرول حاصل کر لیا۔اے ایف پی کے مطابق شامی فضائیہ نے لبنان کے سرحدی قصبے میں2 فضائی حملے کیے ہیں جس میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ دریں اثناحمص سے اقوام متحدہ نے جنگ بندی کے دوران مزید 300 محصورین کو نکال لیا ہے۔ دوسری طرف شام سے کیمیائی ہتھیاروں کی تیسری کھیپ روانہ ہوگئی ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کوروکنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔کھیپ کو4 ممالک کی نگرانی میں ناروے کے جہاز میں بھیجا گیا۔ ادھر جنیوا میں شامی باغیوں اورحکومتی نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کا ایک اور دورشروع ہوگیا ہے۔
اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے نمائندے لخدار براہمی نے امن مذاکرات کا آغاز کردیا۔ لخدار براہیمی نے شامی حکومت اوراپوزیشن کے وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ براہیمی شامی تنازع کے فریقین سے ایک ایسے موقع پر ملاقات کر رہے ہیں، جب حمص شہر میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلیے طے کردہ فائربندی معاہدہ ناکام ہوچکا ہے۔ براہیمی کی جانب سے فریقین کے لیے تحریرکردہ ایک مراسلے میں زوردیا گیا ہے کہ وہ امن عمل کوآگے بڑھانے کے لیے آمادگی ظاہرکریں۔ امریکا اور روس کے حمایت یافتہ امن مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی تھی۔ سعودی عرب نے شام کی صورتحال پرغور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس میں علما نے ایسے گروپوں اور عناصر سے ناتا توڑنے کی اپیل کی ہے جوجہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کرشام لے جا رہے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق باغیوں نے تمام افرادکوصوبہ حماکے گائوں الاوتی میں ہلاک کیا۔ مرنے والوں میں سے 10 افرادکاتعلق ایک ہی گھرانے سے ہے۔ باغیوں نے بشار الاسد کی افواج سے وسطی صوبے ہاما کے گائوں کاکنٹرول حاصل کر لیا۔اے ایف پی کے مطابق شامی فضائیہ نے لبنان کے سرحدی قصبے میں2 فضائی حملے کیے ہیں جس میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ دریں اثناحمص سے اقوام متحدہ نے جنگ بندی کے دوران مزید 300 محصورین کو نکال لیا ہے۔ دوسری طرف شام سے کیمیائی ہتھیاروں کی تیسری کھیپ روانہ ہوگئی ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کوروکنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔کھیپ کو4 ممالک کی نگرانی میں ناروے کے جہاز میں بھیجا گیا۔ ادھر جنیوا میں شامی باغیوں اورحکومتی نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کا ایک اور دورشروع ہوگیا ہے۔
اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے نمائندے لخدار براہمی نے امن مذاکرات کا آغاز کردیا۔ لخدار براہیمی نے شامی حکومت اوراپوزیشن کے وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ براہیمی شامی تنازع کے فریقین سے ایک ایسے موقع پر ملاقات کر رہے ہیں، جب حمص شہر میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلیے طے کردہ فائربندی معاہدہ ناکام ہوچکا ہے۔ براہیمی کی جانب سے فریقین کے لیے تحریرکردہ ایک مراسلے میں زوردیا گیا ہے کہ وہ امن عمل کوآگے بڑھانے کے لیے آمادگی ظاہرکریں۔ امریکا اور روس کے حمایت یافتہ امن مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی تھی۔ سعودی عرب نے شام کی صورتحال پرغور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس میں علما نے ایسے گروپوں اور عناصر سے ناتا توڑنے کی اپیل کی ہے جوجہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کرشام لے جا رہے ہیں۔