مذاکراتی کمیٹی پرڈرون حملے کی بات مفروضہ ہے سردار یوسف
وزیراعظم اور وزیر داخلہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بہتر انداز میں لیکر آگے چل رہے ہیں
طالبان کی جانب سے آئین کوتسلیم کرنے کی بات خوش آئندہے، وفاقی وزیر مذہبی امور، گفتگو۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیرمذہبی اموراوربین المذاہب ہم آہنگی سردارمحمدیوسف نے کہاہے کہ وزیراعظم نوازشریف اوروزیرداخلہ چوہدری نثارطالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کوبہتراندازمیں لے کرآگے چل رہے ہیں، اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں کوساتھ لے کرچل رہے ہیں یہ مفروضے ہیں کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی پرڈرون حملہ ہوگا، طالبان کی جانب سے آئین کوتسلیم کرنے کی بات خوش آئندہے۔
ان خیالات کااظہارانھوں نے جناح اسپورٹس اسٹیڈیم میں پنجاب گروپ آف کالجزکے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کے بعدصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہاکہ طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں وزیراعظم سنجیدہ ہیں اوروہ پارلیمنٹ کواعتمادمیں لے کرقومی اتفاق رائے سے فیصلے کررہے ہیں۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سرداریوسف نے کہاہے کہ نئی حج پالیسی میںکرپشن کے تمام راستے بندکردیے گئے ہیں، قربانی کی رقوم پہلے کاٹ دی جاتی تھی مگراب ایسانہیں ہوگابلکہ قربانی حجاج خوداپنی نگرانی میں اپنے ہا تھوں سے کریںگے۔انھوں نے کہاکہ ٹورآپریٹرزجعلی شناختی کارڈزکے ذریعے افغان مہاجرین کو سعودی عرب حج پرلے جاتے ہیں جبکہ اس اقدام سے پاکستان حجاج اکرام کی نہ صرف حق تلفی ہوتی ہے بلکہ ملک بھی بدنام ہوتاہے رواں سال اس عمل کو روکنے کیلیے سخت اقدامات اٹھائے جائیںگے۔
ان خیالات کااظہارانھوں نے جناح اسپورٹس اسٹیڈیم میں پنجاب گروپ آف کالجزکے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کے بعدصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہاکہ طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں وزیراعظم سنجیدہ ہیں اوروہ پارلیمنٹ کواعتمادمیں لے کرقومی اتفاق رائے سے فیصلے کررہے ہیں۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سرداریوسف نے کہاہے کہ نئی حج پالیسی میںکرپشن کے تمام راستے بندکردیے گئے ہیں، قربانی کی رقوم پہلے کاٹ دی جاتی تھی مگراب ایسانہیں ہوگابلکہ قربانی حجاج خوداپنی نگرانی میں اپنے ہا تھوں سے کریںگے۔انھوں نے کہاکہ ٹورآپریٹرزجعلی شناختی کارڈزکے ذریعے افغان مہاجرین کو سعودی عرب حج پرلے جاتے ہیں جبکہ اس اقدام سے پاکستان حجاج اکرام کی نہ صرف حق تلفی ہوتی ہے بلکہ ملک بھی بدنام ہوتاہے رواں سال اس عمل کو روکنے کیلیے سخت اقدامات اٹھائے جائیںگے۔