شام میں آپریشن کے دوران داعش کے سربراہ نے خود کو بم سے اُڑا لیا امریکا

بم سے اُڑائے جانے والے افراد میں ابو ابراھیم کے اہلخانہ بھی شامل ہیں

جنید البغدادی کے بعد داعش کا دوسرا لیڈر، ابو ابراھیم الہاشمی، [فائل-فوٹو]

کراچی:
شام میں امریکی فوج کے انسداد دہشتگردی مشن کے دوران داعش کے سربراہ ابو ابراھیم الہاشمی القریشی نے خود کو اہل خانہ سمیت بم سے اُڑا لیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق سال 2019 میں ایک کارروائی کے دوران داعش کا پہلا رہنما جنید البغدادی ہلاک ہوا تھا، جس کے بعد اب امریکا نے یہ دوسرا بڑا آپریشن کیا اور داعش کے دوسرے بڑے سربراہ القریشی کو ہلاک کیا۔


داعش کے سربراہ کی ہلاکت کا اعلان امریکی صدر جوبائیڈن نے آج جمعرات کی صبح کو کیا۔ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے سینئر عہدیدار ایڈ او کیفی نے بتایا کہ امریکی فوج اور داعش کارکنان کے درمیان تصادم ہوا جس میں ابو ابراھیم نے امریکی فوج کی کارروائی کے دوران خود کو اہل خانہ سمیت بم سے اڑا لیا۔

بم دھماکے کے نتیجے میں داعش سربراہ سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار خواتین اور 6 بچے بھی شامل ہیں۔ پینٹاگون حکام کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں میں ایک بھی امریکی اہلکار شامل نہیں ہے۔

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مشن کا انتظام سینٹرل کمانڈ نے سنبھالا ہوا تھا جو مشرق وسطیٰ میں فوجی آپریشنز اور دیگر سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے۔
Load Next Story