حکومت اورعمران خان دہشتگردی کے معاملے پر اپنے موقف پر غورکریں اعتزاز احسن
جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں ملک میں دہشت گردی بڑھ گئی ہے حالانکہ اب ڈرون حملے بھی نہیں ہورہے، رہنما پیپلز پارٹی
حکومت نے مزاکرات کی دعوت دے کر طالبان کو تسلیم کرلیا، اعتزاز احسن۔ فوٹو: فائل
پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ملک میں یکے بعد دیگرے دہشتگردی کے واقعات کے بعد حکومت اورعمران خان کو اپنے اپنے موقف پرغورکرنا چاہئے۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کا موقف واضح ہے کہ مذاکرات سے کوئی توقع نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) امن کے لئے مذاکرات کی حامی تھی اور اس نے انہیں اس کی دعوت بھی دی۔ جس کا مطلب تھا کہ حکومت نے طالبان کو تسلیم کرلیا ہے۔ دوسری جانب عمران خان تو اس سے بھی آگے چلے گئے اور انہوں نے طالبان کا دفتر تک کھولنے کی بات کردی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں ملک میں دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ اب امریکا کی جانب سے ڈرون حملے بھی نہیں ہورہے، اس صورت میں طالبان کی جانب سے دہشتگردی کی کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت اورعمران خان کو اپنے موقف پرغورکرنا چاہئے۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کا موقف واضح ہے کہ مذاکرات سے کوئی توقع نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) امن کے لئے مذاکرات کی حامی تھی اور اس نے انہیں اس کی دعوت بھی دی۔ جس کا مطلب تھا کہ حکومت نے طالبان کو تسلیم کرلیا ہے۔ دوسری جانب عمران خان تو اس سے بھی آگے چلے گئے اور انہوں نے طالبان کا دفتر تک کھولنے کی بات کردی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں ملک میں دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ اب امریکا کی جانب سے ڈرون حملے بھی نہیں ہورہے، اس صورت میں طالبان کی جانب سے دہشتگردی کی کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت اورعمران خان کو اپنے موقف پرغورکرنا چاہئے۔