ایم کیو ایم اور اے این پی کا کراچی کے حقوق کیلیے ساتھ چلنے کا اعلان

اے این پی سے قریبی تعلقات چاہتے ہیں، عامر خان، متحدہ سے بھرپور تعاون کریں گے، افتخار حسین، چار سدہ میں ملاقات

ایم کیو ایم کے وفد کے استقبال کی فوٹو (تصویر : ایکسپریس)

کراچی:
ایم کیو ایم کا وفد اے این پی قیادت سے ملاقات کے لیے چار سدہ پہنچ گیا جہاں متحدہ اور اے این پی نے کراچی کے امن اور بلدیاتی حقوق کے معاملے ساتھ چلنے کا اعلان کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی ولی باغ چارسدہ آمد ہوئی ہے۔ وفد میں سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، سابق مئیر کراچی وسیم اختر اور ممبر رابطہ کمیٹی افتخار شامل ہیں۔

سیکریٹری جنرل اے این پی میاں افتخار حسین، صوبائی صدر ایمل ولی خان اور دیگر رہنماؤں نے وفد کا استقبال کیا۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کی۔


تلخیوں کو بھلاکر اے این پی سے قریبی تعلقات چاہتے ہیں، عامر خان

رہنما ایم کیو ایم عامر خان نے کہا کہ اے این پی سے قریبی سیاسی تعلقات چاہتے ہیں، ایم کیو ایم سابقہ تلخیوں کو بھلا کر اے این پی کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش مند ہے، سیاسی اختلافات اور نظریات اپنی جگہ مگر کراچی کے امن اور حق کے لیے اے این پی کا تعاون بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی خود مختاری میں یہ واضح ہے کہ صوبائی حکومتیں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کریں گی مگر سندھ حکومت عوامی خواہشات کے برعکس بلدیاتی نظام لانے پر تلی ہوئی ہے۔


عامر خان نے کہا کہ پاکستان کا دیمک زدہ نظام تبدیل کرنے کا وقت آچکا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اے این پی کا تعاون وقت کی ضرورت ہے، سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے سپریم کورٹ نے بہترین فیصلہ دیا ہے۔


متحدہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے، میاں افتخار حسین


اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی، ایم کیو ایم کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی، اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید کو مکمل اختیارات دے دیے ہیں، بلدیاتی نظام میں تمام تر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ضروری ہے، اے این پی اور ایم کیو ایم کے تعلقات جمہوریت کے لیے نیک شگون ثابت ہوں گے۔


میاں افتخار نے مزید کہا کہ اے این پی ہمیشہ سے دہشت گردی کا شکار رہی، دہشت گرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر سوفیصد عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔

Load Next Story