ملک میں معاشی ترقی ہوتی تو وزیر خزانہ کو بھی تمغہ ملتا فضل الرحمان
یہ کیسی خارجہ پالیسی ہے کہ چین سی پیک پر ہم سے ناراض ہے، جوبائیڈن فون نہیں کرتا اور مودی فون نہیں سنتا
یہ کیسی کامیاب خارجہ پالیسی ہے جس میں جوبائیڈن فون نہیں کرتا اور مودی فون نہیں سنتا؟ سربراہ پی ڈی ایم (فوٹو : فائل)
KASUR:
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یہ کیسی کامیاب خارجہ پالیسی ہے کہ چین سی پیک پر ہم سے ناراض ہے، عمران خان چین گئے تو چینی قیادت نے ان سے ویڈیو لنک پر بات چیت کی، جوبائیڈن فون نہیں کرتا اور مودی فون نہیں سنتا۔
جامعہ مدنیہ رائیونڈ روڈ پر ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی ہورہی ہوتی تو وزیر خزانہ کو اعزاز نہ ملتا؟ عمران خان چین گئے وہاں چینی قیادت نے ان سے ویڈیولنک پربات چیت کی کیوں کہ چین سی پیک کے معاملے پر نالاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست ''ہی'' ہے یا ''شی'' ، مخنس قسم کی حکومت ہے، کچھ وزراء کو وزیراعظم نے اسناد عطا کیں جس کا مطلب ان کا کھیل ختم ہوجاتاہے، ہم نے اپنے آنے والے کھیل کا عندیہ دیدیا ہے، حسن کارکردگی کا نام نہیں لے سکتا ورنہ نوجوانوں کو عجیب خیال آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کہتے معاشی ترقی کو دنیا نے تسلیم کرلیا جب خود کہا تو خزانے کے وزیر کو سند سے کیوں محروم رکھا؟ کہتے ہیں وزیر خارجہ کی بہترین پرفارمنس ہے تو شاہ محمود قریشی کو سند سے کیوں محروم رکھا؟ اگر دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے تو پرویز خٹک کو کیوں سند نہیں دی؟
انہوں نے کہا کہ وزارت ابلاغ میں فواد چودھری اخلاقیات کو گھر چھوڑ آتے ہیں تو اسے سند کیوں نہ دی؟ شیخ رشید کو بھی سند سے محروم کر دیا سمجھ نہیں آئی ترجیحات کیسے ذہن میں آئیں؟ ادھر سے تمغے دے رہے ہیں اور حالیہ منی بجٹ میں ٹیکس بڑھا دیا، عام آدمی اپنے بچوں کو ذبح و دریا برد کررہا ہے، پارلیمنٹ کے سامنے بچے برائے فروخت کے کتبے لگا رہا ہے اور آپ وزرا کو کارکردگی کے تمغے دے رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ کیسی کامیاب خارجہ پالیسی ہے جس میں جوبائیڈن فون نہیں کرتا اور مودی فون نہیں سنتا، چین جاؤ تو چینی قیادت ویڈیو لنک پر بات چیت کرتی ہے، اگر کورونا کا بہانہ تھا تو روسی صدر سے کیوں اسی روز ملاقات کی؟ کوئی پڑوسی ہم سے خوش نہیں، ایران خارجہ پالیسی پر بھارت کے پلڑے میں کھڑا ہے اور چین سی پیک پر نالاں ہے اسی طرح سعودی عرب کا قرضہ اتارنے کے لیے 14 فیصد چین نے پیسہ دیا۔
فضل الرحمان صحافی کے سوال پر آگ بگولا
دریں اثنا مولانا فضل الرحمان صحافی کے ایک سوال پر آگ بگولا ہوگئے۔ صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کھیل شروع کرنے کا عندیہ تو دیدیا کھیل کے میدان کا انتخاب کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟
یہ بھی پڑھیں : حکومت کیخلاف عدم اعتماد پر اپوزیشن کے ساتھ ہیں، آصف زرداری کی فضل الرحمان کو یقین دہانی
مولانا فضل الرحمن سوال کرنے پر برا مان گئے اور کہا کہ ہم نے حکومت کے خلاف صحافیوں یا آپ سے پوچھ کر فیصلہ نہیں کرنا، آصف زرداری سے رابطہ کرکے صرف ان کی مزاج پرسی کی ہے، چودھری شجاعت کی مزاج پرسی کے لیے ان کی رہائش گاہ جا رہاہوں۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یہ کیسی کامیاب خارجہ پالیسی ہے کہ چین سی پیک پر ہم سے ناراض ہے، عمران خان چین گئے تو چینی قیادت نے ان سے ویڈیو لنک پر بات چیت کی، جوبائیڈن فون نہیں کرتا اور مودی فون نہیں سنتا۔
جامعہ مدنیہ رائیونڈ روڈ پر ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی ہورہی ہوتی تو وزیر خزانہ کو اعزاز نہ ملتا؟ عمران خان چین گئے وہاں چینی قیادت نے ان سے ویڈیولنک پربات چیت کی کیوں کہ چین سی پیک کے معاملے پر نالاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست ''ہی'' ہے یا ''شی'' ، مخنس قسم کی حکومت ہے، کچھ وزراء کو وزیراعظم نے اسناد عطا کیں جس کا مطلب ان کا کھیل ختم ہوجاتاہے، ہم نے اپنے آنے والے کھیل کا عندیہ دیدیا ہے، حسن کارکردگی کا نام نہیں لے سکتا ورنہ نوجوانوں کو عجیب خیال آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کہتے معاشی ترقی کو دنیا نے تسلیم کرلیا جب خود کہا تو خزانے کے وزیر کو سند سے کیوں محروم رکھا؟ کہتے ہیں وزیر خارجہ کی بہترین پرفارمنس ہے تو شاہ محمود قریشی کو سند سے کیوں محروم رکھا؟ اگر دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے تو پرویز خٹک کو کیوں سند نہیں دی؟
انہوں نے کہا کہ وزارت ابلاغ میں فواد چودھری اخلاقیات کو گھر چھوڑ آتے ہیں تو اسے سند کیوں نہ دی؟ شیخ رشید کو بھی سند سے محروم کر دیا سمجھ نہیں آئی ترجیحات کیسے ذہن میں آئیں؟ ادھر سے تمغے دے رہے ہیں اور حالیہ منی بجٹ میں ٹیکس بڑھا دیا، عام آدمی اپنے بچوں کو ذبح و دریا برد کررہا ہے، پارلیمنٹ کے سامنے بچے برائے فروخت کے کتبے لگا رہا ہے اور آپ وزرا کو کارکردگی کے تمغے دے رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ کیسی کامیاب خارجہ پالیسی ہے جس میں جوبائیڈن فون نہیں کرتا اور مودی فون نہیں سنتا، چین جاؤ تو چینی قیادت ویڈیو لنک پر بات چیت کرتی ہے، اگر کورونا کا بہانہ تھا تو روسی صدر سے کیوں اسی روز ملاقات کی؟ کوئی پڑوسی ہم سے خوش نہیں، ایران خارجہ پالیسی پر بھارت کے پلڑے میں کھڑا ہے اور چین سی پیک پر نالاں ہے اسی طرح سعودی عرب کا قرضہ اتارنے کے لیے 14 فیصد چین نے پیسہ دیا۔
فضل الرحمان صحافی کے سوال پر آگ بگولا
دریں اثنا مولانا فضل الرحمان صحافی کے ایک سوال پر آگ بگولا ہوگئے۔ صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کھیل شروع کرنے کا عندیہ تو دیدیا کھیل کے میدان کا انتخاب کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟
یہ بھی پڑھیں : حکومت کیخلاف عدم اعتماد پر اپوزیشن کے ساتھ ہیں، آصف زرداری کی فضل الرحمان کو یقین دہانی
مولانا فضل الرحمن سوال کرنے پر برا مان گئے اور کہا کہ ہم نے حکومت کے خلاف صحافیوں یا آپ سے پوچھ کر فیصلہ نہیں کرنا، آصف زرداری سے رابطہ کرکے صرف ان کی مزاج پرسی کی ہے، چودھری شجاعت کی مزاج پرسی کے لیے ان کی رہائش گاہ جا رہاہوں۔