اقوام متحدہ کا سنگاپور سے سزائے موت منسوخ کرنے کا مطالبہ
سنگاپور میں منشیات فروشوں کیلئے سزائے موت بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ نہیں ہے، اقوام متحدہ
کراچی:
سنگاپور میں 2 منشیات فروشوں کی سزائے موت کے فیصلے پر اقوامی متحدہ نے سنگاپور سے سزائے موت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بینکاک پوسٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے دفترِ انسانی حقوق نے 2008 میں گرفتار ہوئے منشیات فروشوں کی حال میں سنائی گئی سزائے موت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر کی ترجمان روینا شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنگاپور میں منشیات فروشوں کیلئے سزائے موت بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سزائے موت سنگین ترین جرائم جیسے اقدام قتل وغیرہ کیلئے ہوتی ہے جبکہ عالمی سطح پر جرائم کو ختم کرنے کیلئے سزائے موت کوغیر موثر تسلیم کیا جاچکا ہے۔
روینا کا کہنا تھا کہ ہم سنگاپور کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دونوں مجرمان کیخلاف سنائے گئے فیصلے کو واپس لے اور اپنے سزائے موت کے قانون کو منسوخ کرے۔
دوسری جانب سنگاپور جو کہ سخت قوانین کیلئے جانا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ سزائے موت ہی جرائم کی روک تھام کرسکتی ہے۔
سنگاپور میں 2 منشیات فروشوں کی سزائے موت کے فیصلے پر اقوامی متحدہ نے سنگاپور سے سزائے موت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بینکاک پوسٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے دفترِ انسانی حقوق نے 2008 میں گرفتار ہوئے منشیات فروشوں کی حال میں سنائی گئی سزائے موت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر کی ترجمان روینا شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنگاپور میں منشیات فروشوں کیلئے سزائے موت بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سزائے موت سنگین ترین جرائم جیسے اقدام قتل وغیرہ کیلئے ہوتی ہے جبکہ عالمی سطح پر جرائم کو ختم کرنے کیلئے سزائے موت کوغیر موثر تسلیم کیا جاچکا ہے۔
روینا کا کہنا تھا کہ ہم سنگاپور کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دونوں مجرمان کیخلاف سنائے گئے فیصلے کو واپس لے اور اپنے سزائے موت کے قانون کو منسوخ کرے۔
دوسری جانب سنگاپور جو کہ سخت قوانین کیلئے جانا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ سزائے موت ہی جرائم کی روک تھام کرسکتی ہے۔