بلاول بھٹو زرداری نے پیکا اور الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس مسترد کردیا
عمران خان نے گورننس سے متعلق اپنی نااہلی اور جرائم کو چھپانے کیلئے متنازع ترمیم متعارف کرائیں، چئیرمین پیپلز پارٹی
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیکا اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے—فائل فوٹو
کراچی:
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیکا اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کو مسترد کردیا۔
بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل سے جاری اعلامیے میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گورننس سے متعلق اپنی نااہلی اور جرائم کو چھپانے کے لیے متنازع ترمیمی آرڈیننس متعارف کرائے جو ایک ناکام کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین میں ہر شہری کو اپنی رائے تشکیل دینے اور اس کے اظہار میں مکمل آزادی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیکا اور الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیک نیوز کے خلاف اقدامات کو جواز بنا کر آزادی اظہارِ رائے اور پریس کو دبانے کی کوشش کی گئی، عمران خان خود پاکستان میں جعلی نیوز مافیا کے سب سے بڑے لیڈر ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیکا اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ حکومت آزادیِ اظہار اور سچی صحافت کا گلہ گھونٹنے سےباز رہے اور متنازع آرڈیننس واپس لے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیکا اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کو مسترد کردیا۔
بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل سے جاری اعلامیے میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گورننس سے متعلق اپنی نااہلی اور جرائم کو چھپانے کے لیے متنازع ترمیمی آرڈیننس متعارف کرائے جو ایک ناکام کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین میں ہر شہری کو اپنی رائے تشکیل دینے اور اس کے اظہار میں مکمل آزادی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیکا اور الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیک نیوز کے خلاف اقدامات کو جواز بنا کر آزادی اظہارِ رائے اور پریس کو دبانے کی کوشش کی گئی، عمران خان خود پاکستان میں جعلی نیوز مافیا کے سب سے بڑے لیڈر ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیکا اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ حکومت آزادیِ اظہار اور سچی صحافت کا گلہ گھونٹنے سےباز رہے اور متنازع آرڈیننس واپس لے۔