عمران خان نے طالبان کے خلاف آپریشن کی مشروط حمایت کردی
آپریشن سے پہلے وہاں موجود لوگوں کو باہر نکالا جائے تاکہ بے گناہ لوگ نہ مارے جائیں، عمران خان
اگر میں نواز شریف کی جگہ ہوتا تو مذاکرات کی خود قیادت کرتا، عمران خان فوٹو: فائل
پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کالعدم تحریک طالبان کے خلاف مشروط آپریشن کی حمایت کردی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کو چاہئے کہ مذاکرات بچانے کے لئے فوراً جنگ بندی کا اعلان کردیں لیکن طالبان کے ایسے گروپ جو مذاکرات نہیں چاہتے اور فوج کے خلاف کارروائیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کے خلاف آپریشن کیا جائے تاہم جو گروپ بات کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ضرور بات کی جائے۔
چیرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپریشن کیا جاتا ہے تو سوات طرز پر آپریشن کیا جائے اور کارروائی سے پہلے وہاں موجود لوگوں کو باہر نکالا جائے تاکہ بے گناہ لوگ نہ مارے جائیں، اگر آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو وہاں موجود عورتوں اور بچوں کا کیا بنے گا، اگر اس آپریشن میں کوئی بے گناہ لوگ مارے گئے تو ان کے رشتہ دار بدلہ لینے کے لئے بندوقیں اٹھا لیں گے جس سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ نواز شریف کی جگہ ہوتے تو مذاکرات کی خود قیادت کرتے، پاکستان میں 10 اور افغانستان میں 13 سالوں سے جاری آپریشن کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کو چاہئے کہ مذاکرات بچانے کے لئے فوراً جنگ بندی کا اعلان کردیں لیکن طالبان کے ایسے گروپ جو مذاکرات نہیں چاہتے اور فوج کے خلاف کارروائیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کے خلاف آپریشن کیا جائے تاہم جو گروپ بات کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ضرور بات کی جائے۔
چیرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپریشن کیا جاتا ہے تو سوات طرز پر آپریشن کیا جائے اور کارروائی سے پہلے وہاں موجود لوگوں کو باہر نکالا جائے تاکہ بے گناہ لوگ نہ مارے جائیں، اگر آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو وہاں موجود عورتوں اور بچوں کا کیا بنے گا، اگر اس آپریشن میں کوئی بے گناہ لوگ مارے گئے تو ان کے رشتہ دار بدلہ لینے کے لئے بندوقیں اٹھا لیں گے جس سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ نواز شریف کی جگہ ہوتے تو مذاکرات کی خود قیادت کرتے، پاکستان میں 10 اور افغانستان میں 13 سالوں سے جاری آپریشن کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔