جی ایس پی پلس سے فائدے کیلیے ’’بیٹروے پروگرام‘‘ ناگزیر قرار
عملدرآمد سے27 یورپی کنونشنز کی شرائط پوری، برآمدات کو فروغ، بیرونی سرمایہ آئے گا
انڈسٹری اکیڈمی شراکت،تربیتی اداروں پرٹیکس استثنیٰ دیاجائے،ٹی ایم اے، رپورٹ مرتب فوٹو: فائل
یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے مکمل استفادے، بین الاقوامی سطح پر منفی تاثرکو زائل کرنے اورعالمی تجارت میں حصہ بڑھانے کے لیے پاکستان میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن و آئی ایل او کے مشترکہ ''بیٹروے پروگرام'' پر عمل درآمد ناگزیر ہوگیا ہے۔
ٹاولزمینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی مرتب کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور شعبہ ٹیکسٹائل کی نمائندہ تنظیموں کے باہمی اشتراک سے مجوزہ بیٹروے پروگرام کے 8 نکات پرعمل درآمد کا آغاز کردیا جائے تو جی ایس پی پلس کے حوالے یورپی یونین کے27 کنونشنز کی شرائط پوری کرتے ہوئے پاکستان نہ صرف یورپی مارکیٹ بلکہ دنیا بھر میں اپنی برآمدات کو سہل انداز میں توسیع دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا، اردن، لیسوتھو، ویتنام، کمبوڈیا، ہیٹی، نکارگوا نے پہلے ہی بیٹروے پروگرام میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ بنگلہ دیش اورمراکش اس پروگرام میں شمولیت کی حکمت عملی وضح کررہے ہیں، آئی ایف سی وآئی ایل او کے مشترکہ بیٹروے پروگرام کے 8 نکات اہم ہیں جن میں چائلڈ لیبر، کنٹریکٹس اینڈ ریسورسز، زرتلافی، تنظیم سازی کی آزادی، تفاوت، پیشہ وارانہ صحت وتحفظ، کام کے اوقات اور جبری مشقت شامل ہیں ان پر پاکستان میں عمل درآمد کا آغاز کردیا جائے تو دنیا بھر میں نہ صرف پاکستان کا تاثر بہتر ہوگا ۔
بلکہ غیرملکی خریداروں کا رخ پاکستان کی جانب مڑجائے گا جو یہاں کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلیے بھی راغب ہوسکیں گے، اس طرح سے بین الاقوامی تجارت میں پاکستان کا حصہ بتدریج بڑھنا شروع ہوجائیگا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیاکہ پیشہ وارانہ مہارت وتربیت فراہم کرنے والے اداروں کی کمی کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹرمیں ہنرمندافرادی قوت کا تناسب بمشکل 25 تا 30 فیصد تک محدود ہے، دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سے مکمل استفادے کیلیے ضروری ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کی شراکت داری عمل میں لائی جائے۔رپورٹ میں جی ایس پی پلس سے مکمل استفادے کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سال2025 تک صنعتی پانی میں26 فیصد کمی ہو جائے گی،حکومت مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ملک گیر سطح پر کمبائنڈ ایفولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام کی منصوبہ بندی کرے۔
ٹاولزمینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی مرتب کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور شعبہ ٹیکسٹائل کی نمائندہ تنظیموں کے باہمی اشتراک سے مجوزہ بیٹروے پروگرام کے 8 نکات پرعمل درآمد کا آغاز کردیا جائے تو جی ایس پی پلس کے حوالے یورپی یونین کے27 کنونشنز کی شرائط پوری کرتے ہوئے پاکستان نہ صرف یورپی مارکیٹ بلکہ دنیا بھر میں اپنی برآمدات کو سہل انداز میں توسیع دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا، اردن، لیسوتھو، ویتنام، کمبوڈیا، ہیٹی، نکارگوا نے پہلے ہی بیٹروے پروگرام میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ بنگلہ دیش اورمراکش اس پروگرام میں شمولیت کی حکمت عملی وضح کررہے ہیں، آئی ایف سی وآئی ایل او کے مشترکہ بیٹروے پروگرام کے 8 نکات اہم ہیں جن میں چائلڈ لیبر، کنٹریکٹس اینڈ ریسورسز، زرتلافی، تنظیم سازی کی آزادی، تفاوت، پیشہ وارانہ صحت وتحفظ، کام کے اوقات اور جبری مشقت شامل ہیں ان پر پاکستان میں عمل درآمد کا آغاز کردیا جائے تو دنیا بھر میں نہ صرف پاکستان کا تاثر بہتر ہوگا ۔
بلکہ غیرملکی خریداروں کا رخ پاکستان کی جانب مڑجائے گا جو یہاں کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلیے بھی راغب ہوسکیں گے، اس طرح سے بین الاقوامی تجارت میں پاکستان کا حصہ بتدریج بڑھنا شروع ہوجائیگا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیاکہ پیشہ وارانہ مہارت وتربیت فراہم کرنے والے اداروں کی کمی کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹرمیں ہنرمندافرادی قوت کا تناسب بمشکل 25 تا 30 فیصد تک محدود ہے، دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سے مکمل استفادے کیلیے ضروری ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کی شراکت داری عمل میں لائی جائے۔رپورٹ میں جی ایس پی پلس سے مکمل استفادے کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سال2025 تک صنعتی پانی میں26 فیصد کمی ہو جائے گی،حکومت مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ملک گیر سطح پر کمبائنڈ ایفولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام کی منصوبہ بندی کرے۔