عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی سپردخاک
صدرمملکت، وزیراعظم، سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور دیگر شخصیات کا افسوس کا اظہار
—فائل فوٹو
ممتاز سماجی رہنما و ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی 74 برس کی عمر میں اتنقال کرگئیں، انہیں میوہ شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بلقیس ایدھی چند روز سے نجی اسپتال میں عارضہ قلب کی وجہ سے زیرِعلاج تھیں جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ نماز جنازہ کے بعد انہیں میوہ شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
عبدالستار ایدھی کی بیوہ بلقیس ایدھی کی نمازجنازہ نیومیمن مسجد بولٹن مارکیٹ میں نمازظہرکے بعد ادا کردی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ، وزیراطلاعات ومحنت سندھ سعیدغنی، وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی سمیت وزرا اور اراکین اسمبلی اورمختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنےو الی شخصیات نے شرکت کی۔
عسکری قیادت کی جانب سے مرحومہ کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی جبکہ سندھ پولیس کے دستے نے بلقیس ایدھی کی میت کو سلامی دی اور ان کی تدفین سرکاری سطح پرمکمل کی گئی۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ کراچی میں ان کے ہمراہ خاتون اول تہمینہ درانی بھی ساتھ تھیں اور انہوں نے نجی ہسپتال میں بلقیس ایدھی سے ملاقات بھی کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا تھا کہ بلقیس اپنے مرحوم شوہر ایدھی صاحب کے لیے روئیں اور میری آنکھوں میں بلقیس کے لیے آنسو آئے، ان کی طبعیت بہت خراب ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سماجی رہنما بلقیس ایدھی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر عبدالستار ایدھی کے ساتھ شانہ بشانہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے سید مراد علی شاہ نے بلقیس ایدھی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
سینیٹر فیصل جاوید نے بھی بلقیس ایدھی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔
سینئر صحافی مبشر زیدی نے کہا کہ 'کراچی کے یتیموں اور غرباء کی ماں نہیں رہیں'۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بلقیس ایدھی چند روز سے نجی اسپتال میں عارضہ قلب کی وجہ سے زیرِعلاج تھیں جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ نماز جنازہ کے بعد انہیں میوہ شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
عبدالستار ایدھی کی بیوہ بلقیس ایدھی کی نمازجنازہ نیومیمن مسجد بولٹن مارکیٹ میں نمازظہرکے بعد ادا کردی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ، وزیراطلاعات ومحنت سندھ سعیدغنی، وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی سمیت وزرا اور اراکین اسمبلی اورمختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنےو الی شخصیات نے شرکت کی۔
عسکری قیادت کی جانب سے مرحومہ کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی جبکہ سندھ پولیس کے دستے نے بلقیس ایدھی کی میت کو سلامی دی اور ان کی تدفین سرکاری سطح پرمکمل کی گئی۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ کراچی میں ان کے ہمراہ خاتون اول تہمینہ درانی بھی ساتھ تھیں اور انہوں نے نجی ہسپتال میں بلقیس ایدھی سے ملاقات بھی کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا تھا کہ بلقیس اپنے مرحوم شوہر ایدھی صاحب کے لیے روئیں اور میری آنکھوں میں بلقیس کے لیے آنسو آئے، ان کی طبعیت بہت خراب ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سماجی رہنما بلقیس ایدھی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر عبدالستار ایدھی کے ساتھ شانہ بشانہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے سید مراد علی شاہ نے بلقیس ایدھی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
سینیٹر فیصل جاوید نے بھی بلقیس ایدھی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔
سینئر صحافی مبشر زیدی نے کہا کہ 'کراچی کے یتیموں اور غرباء کی ماں نہیں رہیں'۔