مکمل آپریشن کا فیصلہ ہونے تک شمالی و جنوبی وزیرستان میں سرجیکل اسٹرائیکس جاری رہیں گی سیاسی و عسکری قیا?

دہشت گردوں کاداخلہ روکنے کیلیے افغان حکومت سے بات کی جائے گی،وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس

اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی،ڈی ملٹری آپریشن کی شرکت،انتہا پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں سے متعلق بریفنگ دی۔ فوٹو : آئی این پی/فائل

سیاسی و عسکری قیادت میں اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت شورش زدہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف سرجیکل اسٹرئیکس جاری رکھی جائیں گی جبکہ پاک افغان بارڈرپر دہشت گردوں کی دراندازی اور غیرقانونی نقل وحرکت روکنے کیلیے افغان حکومت کے ساتھ انٹگریٹڈ باڈرمینجمنٹ سسٹم کے فوری اطلاق کیلیے بات چیت کی جائے۔

یہ فیصلے بدھ کی شبپرائم منسٹر ہائوس اسلام آباد میں وزیر اعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف کی ملاقات کے دوران کیے گئے بعد ازاں اس ملاقات میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان ،وزیردفاع خواجہ محمد آصف ،ڈی جی آئی ایس آئی ایس لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام عباسی، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجرجنرل عامر ریاض بھی شریک ہوگئے۔ذرائع کے مطابق عسکری قیادت نے شمالی وجنوبی وزیرستان سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں جاری سرجیکل اسٹرائیکس سے اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے انتہاپسندوں کے مزیدخفیہ ٹھکانوں کی تعداداور مقامات بارے تفصیلی بریفنگ دی ۔


وزیراعظم اور ان کے رفقا کو بتایاگیا کہ اگر سیاسی قیادت شورش زدہ علاقوں میں بھرپور آپریشن کرنے کافیصلہ کرے تو4سے6ہفتوں میں وزیرستان کے علاہ کو دہشت گردوں سے پاک کیاجاسکتا ہے، ذرائع کے مطابق سیاسی قائدین نے آپریشن کی صورت میں نقل مکانی کے امکانات اور اس کے اثرات کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہارکیا ۔ البتہ وزیراعظم نوازشریف نے عسکری قیادت کو یہ یقین دہانی کرائی کہ حکومتی رٹ قائم کرنے کیلیے وفاقی حکومت سیکیورٹی فورسز کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے ہرممکن اقدامات کرنے کے حق میں ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور ان کے رفقاکی یہ رائے بھی سامنے آئی کہ اگر طالبان کے بعض گروپ غیر مشروط جنگ بندی کردیں اور جنگ بندی کی مخالفت کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کردیں تو پھربات چیت کے ذریعے امن کے متلاشی اور ہرصورت دہشت گردی کی راہ پر چلنے والے طالبان کے درمیان لکیر کھنچ دی جائے اور تشدد پسند گروپوں کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں غیر ملکی عناصر کی مداخلت کے شواہد بارے بھی تفصیلی غوروخوض کیاگیا،پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں کی دراندازی اور غیرقانونی نقل وحرکت روکنے کیلیے افغان حکومت کے ساتھ انٹگریٹڈ باڈرمینجمنٹ سسٹم کے فوری اطلاق کیلیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیاگیا، اجلاس میں اس امر کا بھی جائزہ لیاگیا کہ اگر انتہا پسندی کی راہ پر چلنے والوں کی جانب سے دہشت گردی کی مزید کارروائیاں جاری رہیں اور بہ امرمجبوری شمالی وجنوبی وزیرستان سمیت دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں والے علاقوں میں بھرپور آپریشن کرنے کی ضرورت پڑی تو پھر ان علاقوں میں سوات کی طرح بعد آپریشن فوج مستقلاً تعینات کرنے کی ضرورت اور اس حوالے سے انتظامات کرنا ہوں گے۔

کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ شورش زدہ علاقوں میں حکومتی رٹ ہر صورت بحال کی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ اگر تحریک طالبان پاکستان غیر مشروط طور پر جنگ بندی کا اعلان کردیتی ہے تو حکومت بھی جواباً ایسا ہی کرے گی تاہم طالبان کو یہ ضمانت دینا ہوگی کہ وہ سیکیورٹی فورسز اور عوام پر حملے نہیں کریں ، حملوں کی صورت میں سیکیورٹی فورسز وزیرستان میں بڑے آپریشن کا آغاز کرسکتی ہیں، متعبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شورش زدہ قبائلی علاقوں میں کسی بڑے آپریشن سے قبل وزیر اعظم تمام سیاسی قوتوں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو ہدایت کی کہ دہشت گردی کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر چاروں صوبوں میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کی جائے۔
Load Next Story