معاشرہ روشن خیالی اور تنگ نظر طبقات میں تقسیم ہوچکا چیف جسٹس تصدق جیلانی

اگر ریاست قوانین کو ان کی روح کے مطابق نافذ نہ کراسکے تو اچھے قوانین بھی کھوکھلے نعروں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں

آئین کی خلاف ورزی پر خاموش نہیں رہ سکتے، جمہوری اقدار کو شدید خطرات لاحق ہیں، سندھ ہائی کورٹ بار کے عشائیے سے خطاب۔ فوٹو: آن لائن

چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ آئین ہر شہری کو زندگی، جائیداد رکھنے اور عبادت کرنے کے مساوی حق کی ضمانت دیتا ہے اور یہ بنیادی اقدار جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کیلیے ضروری ہیں لیکن آج ان روایات کو شدید خطرہ ہے اور معاشرہ 2 طبقات میں واضح طور پر تقسیم ہوچکا ہے۔


ایک جانب ان روشن اقدار کا دفاع کرنے والے جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو عقیدے اور تنگ نظری کی بنیاد پر ان اقدار کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، عدم برداشت اور تشددسے جمہوری اقدار کو شدید خطرات لاحق ہیں، ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ ہم قانون کی حکمرانی کیلیے اٹھ کھڑے ہوں۔ وہ بدھ کی شب سندھ ہائی کورٹ میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ عشائیے سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر زیڈ کے جتوئی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز سمیت سینئر وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان ایک مشکل وقت سے گزر رہا ہے، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تمام تر کوشش کے باوجود قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔انھوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت عوام کے اعتماد سے اقتدار میں آتی ہے تو اسے اپنی مقررہ مدت پوری کرنی چاہیے، عدلیہ کے کئی فیصلوں نے معاشرے میں تبدیلی کے عمل کو تیز کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ نے کرپشن کے خلاف ازخود نوٹس لیے اور گڈ گورننس کیلیے اہم فیصلے دیے اور قانون کی حکمرانی کیلیے عدلیہ ازخود نوٹس لیتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ آئین کی خلاف ورزی پر خاموش رہے گی۔
Load Next Story