لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور چیزیں بیرون ملک اسمگل ہورہی ہیں پشاور ہائیکورٹ
پشاور ہائیکورٹ میں مہنگائی سے متعلق نوٹس پر سماعت، گراں فروشوں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق رپورٹ جمع
پشاور ہائیکورٹ میں مہنگائی سے متعلق نوٹس پر سماعت، گراں فروشوں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق رپورٹ جمع فوٹو: فائل
لاہور:
عدالت عالیہ میں رمضان میں مہنگائی سے متعلق نوٹس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ملک میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور چیزیں بیرون ملک اسمگل ہورہی ہیں۔
کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر اور سیکریٹری فوڈ عدالت میں پیش ہوئی اور کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔
کشمر پشاور ریاض محسود نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر گراں فروشوں کے خلاف خصوصی مہم شروع کردی گئی ہے۔ 98 یونٹس کو سیل کیا ہے جبکہ 778 اسٹورز کو چیک کیا گیا اور گراں فروشوں کے خلاف 102 ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں۔
چیف جسٹس قیصر رشید خان نے استفسار کیا کہ قیمتوں کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں کو پکڑیں اور ان کا کاروبار بند کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں صرف ایک بار نہیں ہونی چاہیئے۔ عید قریب آرہی ہے عوام کو کچھ ریلیف دیں۔ ہمارے لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور مال بیرون ممالک کو جارہا ہے۔ اسمگلنگ کو روکیں، اس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ جاتی ہے۔
کشمنر نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 10 کلو آٹا سرکاری ریٹ 400 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے گرافروشوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت منگل کے روز تک ملتوی کردی اور ریمارکس دیے کہ منگل کو دوبارہ اچھی رپورٹ کے ساتھ آئیں۔
عدالت عالیہ میں رمضان میں مہنگائی سے متعلق نوٹس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ملک میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور چیزیں بیرون ملک اسمگل ہورہی ہیں۔
کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر اور سیکریٹری فوڈ عدالت میں پیش ہوئی اور کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔
کشمر پشاور ریاض محسود نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر گراں فروشوں کے خلاف خصوصی مہم شروع کردی گئی ہے۔ 98 یونٹس کو سیل کیا ہے جبکہ 778 اسٹورز کو چیک کیا گیا اور گراں فروشوں کے خلاف 102 ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں۔
چیف جسٹس قیصر رشید خان نے استفسار کیا کہ قیمتوں کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں کو پکڑیں اور ان کا کاروبار بند کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں صرف ایک بار نہیں ہونی چاہیئے۔ عید قریب آرہی ہے عوام کو کچھ ریلیف دیں۔ ہمارے لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور مال بیرون ممالک کو جارہا ہے۔ اسمگلنگ کو روکیں، اس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ جاتی ہے۔
کشمنر نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 10 کلو آٹا سرکاری ریٹ 400 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے گرافروشوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت منگل کے روز تک ملتوی کردی اور ریمارکس دیے کہ منگل کو دوبارہ اچھی رپورٹ کے ساتھ آئیں۔