جامعہ کراچیخودکش حملہ آور لڑکی کے اعضاء لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے بھیجوا دئیے گئے

خودکش حملہ آور لڑکی کی عمر 16 سے 18 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہے، تفتیشی ٹیم

جامعہ کراچی میں خودکش حملہ کرنے والی لڑکی کے اعضاء لیبارٹری بھیج دئیے گئے

RAWALPINDI:
تفتیشی ٹیم نے جامعہ کراچی میں چائینز استاتذہ پر خودکش حملہ کرنے والی لڑکی کے اعضاء جائے وقوعہ سے تحویل میں لیکر فارنزک کیلئے لیبارٹری بھیج دئیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کی بڑی تعلیمی درسگاہ جامعہ کراچی میں ہونے والے ہولناک حملے کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی تفتیشی ٹیم کو خودکش حملہ آور لڑکی کا ایک سیدھا پاوں ، سر کے بال اور سر کی کچھ ہڈیاں جائے وقوعہ اور اسکے اطراف سے تحویل میں لے کر لیبارٹری کے لیے بھیج دیئے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ سی سی فوٹیج کی مدد اور دہشت گردوں کی طرف سے جاری کردہ خودکش حملہ آور لڑکی کی تصویر اور تفصیلات سے لڑکی کی عمر ایک اندازے کے مطابق 16 سے 18 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ حملہ آور لڑکی کو باقاعدہ کراچی یونیورسٹی اور چائینز ہائی ایکس وین کی باقاعدہ ریکی کرائی گئی تھی اور جیسے ہی وین موڑ کاٹنے لگی تو لڑکی نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔


پولیس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور لڑکی کو اس کے ساتھی دہشت گرد جامعہ کراچی کے اندر چھوڑ کر گئے تھے، جن کی گرفتاری کےلیے جائے وقوعہ کے اطراف اور تمام سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جارہی ہیں تاکہ دہشت گردوں تک پہنچنے میں آسانی ہو۔

مزید پڑھیں : جامعہ کراچی : خودکش دھماکے میں 3 چینی اساتذہ سمیت چار افراد جاں بحق

خیال رہے کہ جامعہ کراچی میں چینی زبان کی تعلیم دینے والے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے گیٹ پر خاتون بمبار کے حملے میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک ہوئے جب کہ متعدد زخمی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جامعہ کراچی میں خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
Load Next Story