جامعہ کراچی کی اراضی پر قبضے کی کوشش ناکام بنادی گئی
شیخ زید اسلامک سینٹر کے سامنے واقع اراضی 1954 میں یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی تھی، سیکیورٹی ایڈوائزر خالد عراقی
شیخ زید اسلامک سینٹر کے سامنے واقع اراضی 1954 میں یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی تھی، سیکیورٹی ایڈوائزر خالد عراقی۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی روڈپرموجودقطعہ اراضی پرچاردیواری تعمیرنہ کیے جانے کے سبب آئے دن قطعہ اراضی پر مختلف نجی پارٹیوں کی جانب سے قبضے کی کوشش کاسلسلہ جاری ہے اور جمعرات کوبھی ایک نجی پارٹی کی جانب سے جامعہ کراچی کے شیخ زید اسلامک سینٹر کے سامنے واقع قطعہ اراضی پرایک نجی پارٹی کی جانب سے قبضہ کی کوشش کی گئی۔
نجی پارٹی زمین پرتعمیرات کے لیے اینٹ اوربجری کے ٹرک اپنے ہمراہ لائی تھی تاہم اس موقع پر یونیورسٹی کے سیکیورٹی ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن پروفیسرزبیرکے ہمراہ موقع پرپہنچ گئے، موقع پررینجرزکوبھی بلایا گیا اور نجی پارٹی کی جانب سے یونیورسٹی کی اراضی پرقبضے کی کوشش ناکام بنائی گئی، نجی پارٹی کادعویٰ تھاکہ سن2014میں کے ڈی اے کی جانب سے یہ قطعہ اراضی انھیں الاٹ کردی گئی ہے تاہم جامعہ کراچی نے اس موقع پر اپنے نقشے متعلقہ پارٹی کوبھی دکھائے۔
قابل ذکرامریہ ہے اس موقع پر متعلقہ تھانے گلستان جوہرپولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے قبضے کے حوالے سے بھیجی گئی درخواست ہی وصول کرنے سے انکارکردیااوررات گئے تک یونیورسٹی کی جانب سے درخواست وصول نہیں کی گئی تھی، جامعہ کراچی کے سیکیورٹی ایڈوائزرپروفیسرڈاکٹرخالد عراقی کے مطابق متعلقہ قطعہ اراضی 1954میں جامعہ کراچی کوالاٹ کی گئی تھی جس کی تمام تردستاویزات یونیورسٹی کے پاس محفوظ ہیں جبکہ سن 2009میں بورڈ آف ریونیوبھی سروے آف پاکستان کی جانب سے کرائے گئے سروے میں متعلقہ قطعہ اراضی کی تصدیق کرچکاہے، پروفیسرخالد عراقی کے مطابق وائس چانسلرسے ملاقات میں نجی پارٹی نے موقف اختیارکیاتھاکہ 2014میں یہ اراضی انھیں الاٹ کی گئی ہے۔
نجی پارٹی زمین پرتعمیرات کے لیے اینٹ اوربجری کے ٹرک اپنے ہمراہ لائی تھی تاہم اس موقع پر یونیورسٹی کے سیکیورٹی ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن پروفیسرزبیرکے ہمراہ موقع پرپہنچ گئے، موقع پررینجرزکوبھی بلایا گیا اور نجی پارٹی کی جانب سے یونیورسٹی کی اراضی پرقبضے کی کوشش ناکام بنائی گئی، نجی پارٹی کادعویٰ تھاکہ سن2014میں کے ڈی اے کی جانب سے یہ قطعہ اراضی انھیں الاٹ کردی گئی ہے تاہم جامعہ کراچی نے اس موقع پر اپنے نقشے متعلقہ پارٹی کوبھی دکھائے۔
قابل ذکرامریہ ہے اس موقع پر متعلقہ تھانے گلستان جوہرپولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے قبضے کے حوالے سے بھیجی گئی درخواست ہی وصول کرنے سے انکارکردیااوررات گئے تک یونیورسٹی کی جانب سے درخواست وصول نہیں کی گئی تھی، جامعہ کراچی کے سیکیورٹی ایڈوائزرپروفیسرڈاکٹرخالد عراقی کے مطابق متعلقہ قطعہ اراضی 1954میں جامعہ کراچی کوالاٹ کی گئی تھی جس کی تمام تردستاویزات یونیورسٹی کے پاس محفوظ ہیں جبکہ سن 2009میں بورڈ آف ریونیوبھی سروے آف پاکستان کی جانب سے کرائے گئے سروے میں متعلقہ قطعہ اراضی کی تصدیق کرچکاہے، پروفیسرخالد عراقی کے مطابق وائس چانسلرسے ملاقات میں نجی پارٹی نے موقف اختیارکیاتھاکہ 2014میں یہ اراضی انھیں الاٹ کی گئی ہے۔