ذیشان قتل کیس دیت کے عوض رینجرز اہلکار کی 24 لاکھ روپے میں ضمانت منظور
عدالت کا کہنا تھا کہ دیت کی رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو جیل بھیج دیا جائے گا۔
رینجرز اہلکار کا کہنا تھا کہ لڑکے پر فائرنگ خاتون کو بچانے کے لئے کی تھی۔ فوٹو؛ ایکسپریس نیوز
ذیشان قتل کیس میں عدالت نےرینجرزاہلکارنوررحم کوچوبیس لاکھ روپےدیت کی رقم اداکرنےکاحکم دیتےہوئےضمانت منظورکرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نوجوان ذیشان کے قتل کے الزام میں رینجرز اہلکار رحم نور کو کراچی کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو ملزم نے زبانی طور پر واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسجد کی چھت پر تعینات تھا اس نے جب دیکھا کہ ایک شخص ایک خاتون کو بالوں سے گھسیٹ کر قریب کھڑی کالے رنگ کی کار میں بٹھانے کی زبر دستی کوشش کر رہا ہے اور قریب موجود 10 سے 12 افراد بھی اس لڑکی کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہے تو وہ سمجھا کہ لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس پر اس نے سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو دیئے گئے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خاتون کو بچانے کے لئے لڑکے کے پاؤں کا نشانہ بنایا لیکن متاثرہ شخص اور خاتون آپس میں گھتم گھتا تھے جس کی وجہ سے گولی اس شخص کے جسم پر لگ گئی اور وہ انتقال کر گیا۔
عدالت نے رینجرز اہلکار کا بیان سننے کے بعد 24 لاکھ روپے پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی، عدالت کا کہنا تھا کہ دیت کی رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ دوسری جانب رینجرز حکام کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھی کی رہائی کے لئے رقم کا بندو بست کر رہے ہیں اور شام تک رحم نور کو ضمانت پر رہا کرا لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 5روز قبل رینجرزاہلکار کی فائرنگ سے ذیشان نامی شخص جاں بحق جب کہ اس کی بیوی زخمی ہو گئی تھی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نوجوان ذیشان کے قتل کے الزام میں رینجرز اہلکار رحم نور کو کراچی کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو ملزم نے زبانی طور پر واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسجد کی چھت پر تعینات تھا اس نے جب دیکھا کہ ایک شخص ایک خاتون کو بالوں سے گھسیٹ کر قریب کھڑی کالے رنگ کی کار میں بٹھانے کی زبر دستی کوشش کر رہا ہے اور قریب موجود 10 سے 12 افراد بھی اس لڑکی کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہے تو وہ سمجھا کہ لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس پر اس نے سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو دیئے گئے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خاتون کو بچانے کے لئے لڑکے کے پاؤں کا نشانہ بنایا لیکن متاثرہ شخص اور خاتون آپس میں گھتم گھتا تھے جس کی وجہ سے گولی اس شخص کے جسم پر لگ گئی اور وہ انتقال کر گیا۔
عدالت نے رینجرز اہلکار کا بیان سننے کے بعد 24 لاکھ روپے پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی، عدالت کا کہنا تھا کہ دیت کی رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ دوسری جانب رینجرز حکام کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھی کی رہائی کے لئے رقم کا بندو بست کر رہے ہیں اور شام تک رحم نور کو ضمانت پر رہا کرا لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 5روز قبل رینجرزاہلکار کی فائرنگ سے ذیشان نامی شخص جاں بحق جب کہ اس کی بیوی زخمی ہو گئی تھی۔