خواجہ آصف خود تو لندن بھاگ جائیں گے خون خرابہ یہاں شروع ہو جائے گا مولانا سمیع الحق
خواجہ آصف کو آپریشن جیسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے حالانکہ ان کے سربراہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں، مولانا سمیع الحق
طالبان کے 40، 50 گروپوں کا نام لینے والوں کو 4 گروپوں کے نام بھی نہیں معلوم، مولانا سمیع الحق فوٹو:فائل
وزیردفاع خواجہ آصف کی جانب سے آپریشن کے حوالے سےدیئے گئے بیان پر طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف خود تو لندن بھاگ جائیں گے یہاں خون خرابہ شروع ہو جائےگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ 10سال بھی آپریشن ہوتا رہے توامن قائم نہیں ہو گا کیوں کہ اس دوران ملزمان تو روپوش ہوجائیں گے اور صرف معصوم افراد مارے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کے جماعت کے سربراہ اوروزیراعظم نوازشریف مذاکرات کی بات کررہے ہیں جب کہ وہ آپریشن کی بات کرکے یہاں تو خوان خرابہ شروع کرادیں گے اورخود لندن یا امریکا بھاگ جائیں گے، انہیں اس طرح کے بیانات سے گریزکرنا چاہئے۔
مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ تمام مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے، حکومت اور طالبان کی جانب سے قائم کردہ کمیٹیوں کے درمیان بات چیت سے آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں، ہم لوگ بند دروازے کھولنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، اب دونوں ٹیمیں ایک میزپرآمنے سامنے بات کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے 40، 50 گروپوں کا نام لینے والوں کو 4 گروپوں کے نام بھی نہیں معلوم، دشمنوں کے آلہ کار مذاکرات کو چلنے نہیں دے رہے، وزیراعظم نواز شریف نے آپریشن اور جنگ کی نوبت نہ آنے کا عہد کیا ہے، طالبان سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے ایک 2 روز میں ایک وفد جائے گا، وفد میں پرانی حکومتی کمیٹی کا بھی ایک یا 2ارکان شامل ہوں گے۔
واضح رہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹر ویو میں کہنا تھا کہ اگر طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود کارروائیاں جاری رہیں تو رواں ماہ قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جاسکتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ 10سال بھی آپریشن ہوتا رہے توامن قائم نہیں ہو گا کیوں کہ اس دوران ملزمان تو روپوش ہوجائیں گے اور صرف معصوم افراد مارے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کے جماعت کے سربراہ اوروزیراعظم نوازشریف مذاکرات کی بات کررہے ہیں جب کہ وہ آپریشن کی بات کرکے یہاں تو خوان خرابہ شروع کرادیں گے اورخود لندن یا امریکا بھاگ جائیں گے، انہیں اس طرح کے بیانات سے گریزکرنا چاہئے۔
مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ تمام مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے، حکومت اور طالبان کی جانب سے قائم کردہ کمیٹیوں کے درمیان بات چیت سے آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں، ہم لوگ بند دروازے کھولنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، اب دونوں ٹیمیں ایک میزپرآمنے سامنے بات کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے 40، 50 گروپوں کا نام لینے والوں کو 4 گروپوں کے نام بھی نہیں معلوم، دشمنوں کے آلہ کار مذاکرات کو چلنے نہیں دے رہے، وزیراعظم نواز شریف نے آپریشن اور جنگ کی نوبت نہ آنے کا عہد کیا ہے، طالبان سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے ایک 2 روز میں ایک وفد جائے گا، وفد میں پرانی حکومتی کمیٹی کا بھی ایک یا 2ارکان شامل ہوں گے۔
واضح رہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹر ویو میں کہنا تھا کہ اگر طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود کارروائیاں جاری رہیں تو رواں ماہ قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جاسکتا ہے۔