کابل گردوارے پر حملے میں طالبان محافظ اور 2 سکھ یاتری ہلاک
حملہ آوروں نے گردوارے میں موجود 30 افراد کو یرغمال بنالیا جن میں سے 3 زخمی حالت میں نکلنے میں کامیاب ہوگئے
کابل کے گردوارے میں دھماکے کے بعد مسلح افراد اندر گھس گئے، فوٹو: ٹوئٹر
LONDON:
افغانستان کے دارالحکومت میں سکھوں کی عبادت گاہ گردوارے میں دھماکے کے بعد مسلح افراد نے اندر گھس گئے جن کے ساتھ طالبان اہلکاروں کی گھمسان کی جنگ جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے گردوارے میں زور دار دھماکا ہوا ہے، دھماکا اس وقت ہوا جب وہاں 30 سے زائد سکھ یاتری موجود تھے۔ دھماکے کے بعد درجن بھر مسلح افراد نے گردوارے میں داخل ہوکر 30 سے زائد افراد کو یرغمال بنالیا۔
گردوارے کے ایک دروازے سے 3 سکھ یاتری کسی طرح نکلنے میں کامیاب ہوگئے جن میں سے دو زخمی ہیں۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ دھماکے میں گردوارے کی حفاظت پر مامور طالبان محافظ جاں بحق ہوگیا اور 2 سکھ یاتریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
حملے کی اطلاع ملنے پر طالبان اہلکار گردوارے پہنچ گئے اور محاصرہ کرلیا۔ تاحال گردوارے میں موجود مسلح افراد اور طالبان اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والا سکھ یاتری 60 سالہ سویندر سنگھ ہے جس کا خاندان دہلی میں آباد ہے تاہم وہ خود غزنی میں مقیم ہے جب کہ طالبان محافظ کی شناخت احمد کے نام سے ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گردوارے کی عمارت سے سیاح دھواں نکل رہا ہے اور طالبان اہلکار نے گردوارے کو محاصرے میں لیا ہوا ہے۔
داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
افغانستان کے دارالحکومت میں سکھوں کی عبادت گاہ گردوارے میں دھماکے کے بعد مسلح افراد نے اندر گھس گئے جن کے ساتھ طالبان اہلکاروں کی گھمسان کی جنگ جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے گردوارے میں زور دار دھماکا ہوا ہے، دھماکا اس وقت ہوا جب وہاں 30 سے زائد سکھ یاتری موجود تھے۔ دھماکے کے بعد درجن بھر مسلح افراد نے گردوارے میں داخل ہوکر 30 سے زائد افراد کو یرغمال بنالیا۔
گردوارے کے ایک دروازے سے 3 سکھ یاتری کسی طرح نکلنے میں کامیاب ہوگئے جن میں سے دو زخمی ہیں۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ دھماکے میں گردوارے کی حفاظت پر مامور طالبان محافظ جاں بحق ہوگیا اور 2 سکھ یاتریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
حملے کی اطلاع ملنے پر طالبان اہلکار گردوارے پہنچ گئے اور محاصرہ کرلیا۔ تاحال گردوارے میں موجود مسلح افراد اور طالبان اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والا سکھ یاتری 60 سالہ سویندر سنگھ ہے جس کا خاندان دہلی میں آباد ہے تاہم وہ خود غزنی میں مقیم ہے جب کہ طالبان محافظ کی شناخت احمد کے نام سے ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گردوارے کی عمارت سے سیاح دھواں نکل رہا ہے اور طالبان اہلکار نے گردوارے کو محاصرے میں لیا ہوا ہے۔
داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔