کالجوں میں بھی میٹرک کے امتحانی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ
بلدیہ،اورنگی، گڈاپ، بن قاسم، سائٹ اور گلبرگ ٹاؤنز سمیت دیگر علاقوں کے سرکاری کالجز میں امتحانی مراکز قائم کیے جائیں گے
ویجلنس کے فرائض سرکاری اسکولوں کے اساتذہ انجام دیں گے، ڈائریکٹرز آف کالجز کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ، حتمی منظوری منگل کومنعقدہ اجلاس میں دی جائیگی۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
ثانوی تعلیمی بورڈکراچی نے پہلی بارمیٹرک کے امتحانی مراکز شہر کے سرکاری کالجوں میں بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ بعض سرکاری اسکولوں میں طلبا کیلیے بنیادی سہولیات نہ ہونے اورنجی اسکولوں کی جانب سے امتحانی مراکز کے قیام کے سلسلے میں لابنگ کو توڑنے اوردبائو کو ردکرنے کے لیے کیاگیا ہے، بورڈ کی جانب سے آزمائشی طور پر20 کے قریب سرکاری کالجوں میں میٹرک کے امتحانی مراکز قائم کیے جارہے ہیں ، میٹرک کے امتحانی مراکز ان علاقوں کے سرکاری کالجوں میں قائم کیے جائینگے جہاں واقع سرکاری اسکول یا توخستہ حال ہیں یا پھر وہاں بنیادی سہولیات ہی موجود نہیں ہیں ، اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس ڈائریکٹوریٹ آف کالجز کے دفتر میں جمعہ کو منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر ڈاکٹر ناصر انصار کے علاوہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات نعمان احسن اورڈپٹی ڈائریکٹر کالجز افضال احمد سمیت دیگر شریک ہوئے۔
اجلاس میں طے کیاگیاکہ کراچی میں انٹر کے امتحانات 22 اپریل سے شروع ہورہے ہیں لہٰذا نویں اور دسویں کے صرف ایسے ریگولر امیدواروں کے امتحانی مراکز سرکاری کالجوں میں قائم کیے جائیں گے جن کے پرچے 22 اپریل سے پہلے ہی ختم ہوجائیں تاکہ انٹرکے امتحانات کے انعقاد میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، فیصلے کوحتمی شکل دینے کیلیے اس سلسلے میں مزید ایک اجلاس منگل کو ہوگا جس میں متعلقہ کالجوں کے پرنسپل اوربورڈحکام شریک ہونگے ، اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ سرکاری کالجوں میں قائم کیے جانے والے میٹرک کے امتحانی مراکز میں ویجلنس کے فرائض متعلقہ علاقے میں قائم سرکاری اسکولوں کے اساتذہ انجام دیں گے۔
اس سلسلے میں سرکاری کالجوں کے اساتذہ یا عملے کی خدمات نہیں لی جائینگی، اجلاس میں جن علاقوں کے سرکاری کالجوں میں امتحانی مراکز کے قیام پر غورکیا گیا ان میں گڈاپ، بن قاسم، بلدیہ ،اورنگی ، سائٹ اورگلبرگ ٹائونز سمیت دیگرعلاقوں کے سرکاری کالج شامل ہیں ، یادرہے کہ 3 روزقبل صوبائی محکمہ تعلیم کے منعقدہ اجلاس میں وزیر تعلیم نے تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی تھی کہ بڑے اور زیادہ گنجائش کے حامل سرکاری اسکولوں میں امتحانی مراکز قائم کیے جائیں اگر سرکاری اسکول دستیاب نہ ہوں توسرکاری کالجوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔
ثانوی تعلیمی بورڈکراچی نے پہلی بارمیٹرک کے امتحانی مراکز شہر کے سرکاری کالجوں میں بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ بعض سرکاری اسکولوں میں طلبا کیلیے بنیادی سہولیات نہ ہونے اورنجی اسکولوں کی جانب سے امتحانی مراکز کے قیام کے سلسلے میں لابنگ کو توڑنے اوردبائو کو ردکرنے کے لیے کیاگیا ہے، بورڈ کی جانب سے آزمائشی طور پر20 کے قریب سرکاری کالجوں میں میٹرک کے امتحانی مراکز قائم کیے جارہے ہیں ، میٹرک کے امتحانی مراکز ان علاقوں کے سرکاری کالجوں میں قائم کیے جائینگے جہاں واقع سرکاری اسکول یا توخستہ حال ہیں یا پھر وہاں بنیادی سہولیات ہی موجود نہیں ہیں ، اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس ڈائریکٹوریٹ آف کالجز کے دفتر میں جمعہ کو منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر ڈاکٹر ناصر انصار کے علاوہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات نعمان احسن اورڈپٹی ڈائریکٹر کالجز افضال احمد سمیت دیگر شریک ہوئے۔
اجلاس میں طے کیاگیاکہ کراچی میں انٹر کے امتحانات 22 اپریل سے شروع ہورہے ہیں لہٰذا نویں اور دسویں کے صرف ایسے ریگولر امیدواروں کے امتحانی مراکز سرکاری کالجوں میں قائم کیے جائیں گے جن کے پرچے 22 اپریل سے پہلے ہی ختم ہوجائیں تاکہ انٹرکے امتحانات کے انعقاد میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، فیصلے کوحتمی شکل دینے کیلیے اس سلسلے میں مزید ایک اجلاس منگل کو ہوگا جس میں متعلقہ کالجوں کے پرنسپل اوربورڈحکام شریک ہونگے ، اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ سرکاری کالجوں میں قائم کیے جانے والے میٹرک کے امتحانی مراکز میں ویجلنس کے فرائض متعلقہ علاقے میں قائم سرکاری اسکولوں کے اساتذہ انجام دیں گے۔
اس سلسلے میں سرکاری کالجوں کے اساتذہ یا عملے کی خدمات نہیں لی جائینگی، اجلاس میں جن علاقوں کے سرکاری کالجوں میں امتحانی مراکز کے قیام پر غورکیا گیا ان میں گڈاپ، بن قاسم، بلدیہ ،اورنگی ، سائٹ اورگلبرگ ٹائونز سمیت دیگرعلاقوں کے سرکاری کالج شامل ہیں ، یادرہے کہ 3 روزقبل صوبائی محکمہ تعلیم کے منعقدہ اجلاس میں وزیر تعلیم نے تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی تھی کہ بڑے اور زیادہ گنجائش کے حامل سرکاری اسکولوں میں امتحانی مراکز قائم کیے جائیں اگر سرکاری اسکول دستیاب نہ ہوں توسرکاری کالجوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔