پاپوش نگر جوہر آباد ڈاکوؤں نے 2 بینکوں سے 70 لاکھ روپے لوٹ لیے گارڈ کا اسلحہ بھی لے گئے

پولیس نے وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے ملزمان کا سراغ لگانا شروع کردیا


Staff Reporter March 08, 2014
جوہرآباد: بینک ڈکیتی کے بعد کرائم سین کا عملہ شواہد کے حصول کیلیے آرہا ہے۔ فوٹو:ایکسپریس

KARACHI: پاپوشنگر اور جوہر آباد میں مسلح ڈاکو2 بینک ڈکیتی کی واردات میں 70 لاکھ روپے، سیکیورٹی گارڈ سے اسلحہ اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔

وارداتوں کی اطلاع پر اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس کے افسران اور علاقہ پولیس موقع پر پہنچ گئے اور دونوں بینک ڈکیتی کی وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے ملزمان کا سراغ لگانے کی کوشش شروع کر دیں،رواں سال کے دوران یہ مجموعی طور پر بینک ڈکیتی کی نویں اور دسویں وارداتیں تھیں، تفصیلات کے مطابق پاپوش نگر کے علاقے چاندنی چوک کے قریب واقع نجی بینک میں 6 مسلح ڈاکوؤں نے داخل ہوتے ہی سیکیورٹی گارڈز سے اسلحہ چھین کر بینک میں موجود تمام عملے اور کھاتیداروں کو یرغمال بنا کر کیش کائونٹر پر رکھے ہوئے 35 لاکھ روپے لوٹ لیے اور فرار ہوگئے، واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں ، ایس ایچ او رضوان پٹیل نے بتایا کہ ملزمان کی تعداد 6 تھی جو کہ صبح سوا9 بجے کے قریب موٹر سائیکلوں پر آئے تھے اور تقریباً 6 منٹ کے دوران 35 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔

انھوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی ریکارڈنگ محفوظ رہی جسے پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے ملزمان شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے اور جاتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ سے ٹی ٹی پستول اور دیگر افراد کے موبائل فون بھی اپنے ہمراہ لے گئے ، پولیس نے بینک کے منیجر عمر کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 34/14 درج کر کے تفتیش شروع کردی ، پولیس ابھی بینک ڈکیتی کی مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی تھی تقریباً سوا گھنٹے کے بعد10 بجکر 35 منٹ پر جوہر آباد کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 14 مین شارع پاکستان پر واقع عصمت کارنر میں قائم نجی بینک میں 6 ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر بینک پر تعینات سیکیورٹی گارڈز سے اسلحہ چھین کر عملے اور دیگر کھاتیداروں کو یرغمال بنا کر کیش کاؤنٹر سے 35 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے اور جاتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ جاوید کی پستول اور دیگر افراد کے موبائل فون بھی لے گئے، ڈی ایس پی جوہر آباد سلیم صدیقی نے بتایا کہ ملزمان نے پوری کارروائی 5 سے 7 منٹ کے دوران مکمل کر کے موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر فرار ہوگئے تاہم واردات میں بینک کے اندر بننے والی سی سی کیمرا فوٹیج محفوظ رہی۔

پولیس نے بینک منیجر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ، ایس ایس پی سینٹرل مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ دونوں وارداتوں کے بعد فارنسک ٹیم کی مدد سے ملزمان کے فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد حاصل کرلیے ہیں اور شبہ ہے کہ وارداتوں میں ایک ہی گروپ ملوث ہے تاہم مزید تفتیش کی جارہی ہے ،بینک ڈکیتی کی وارداتوں کی اطلاع پر ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ فاروق اعوان نے دونوں بینکوں کا دورہ کیا اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بینک ڈکیتی کراچی میں ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے تاہم ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دونوں بینک ڈکیتیوں میں کالعدم تنظیم کا ایک ہی گروپ ملوث ہے اور اب تک کراچی میں بینک ڈکیتیوں کی وارداتوں میں ملوث ملزمان غیر مقامی ہیں جو واردات کے بعد اندرون ملک فرار ہوجاتے ہیں۔

مقبول خبریں