کراچی کاروبار 9 بجے بند ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری شہریوں نے رات جاگ کر گزاری
اتوار کی شام سے لے کر پیر علی الصبح تک کئی علاقوں میں بجلی کا بریک ڈاؤن رہا، شہریوں کا احتجاج
شہر کے بیشتر علاقے رات بھر تاریکی میں ڈوبے رہے۔ (فوٹو فائل)
ISLAMABAD:
شہر قائد میں کاروبار جلدی بند کرکے بجلی بچانے کے منصوبے کے باوجود بھی شہر کے بیشتر علاقے رات بھر تاریکی میں ڈوبے رہے اور شہریوں نے رات جاگ کر گزاری۔
حکومت کی جانب سے مارکیٹیں جلدی بند کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ بجلی بچت منصوبے کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے بجائے کے الیکٹرک نے رات ہوتے ہی شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی بند کردی۔ اتوار کی شام سے لے کر پیر علی الصبح تک شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کا بریک ڈاؤن رہا ۔
لیاری کے بیشتر علاقے اتوار کی شام سے بجلی سے محروم رہے۔ لوڈشیڈنگ کے ستائے شہری رات گئے مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکلے اور غریب شاہ روڈ کو بلاک کر کے ٹائر جلاکر احتجاج کیا۔ مکینوں کا کہنا تھا کہ 8 گھنٹے سے زائد بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جس سے علاقے میں پانی کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بھاری بجلی کے بل بھرنے کے باوجود بھی بنیادی ضرورت کی سہولت مہیا نہیں کی جار ہی۔
دریں اثنا کورنگی سیکٹر 31 کے مختلف علاقوں میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب 2 بجے سے بجلی کی فراہمی معطل کر دی گئی ، شہریوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے شکایتی موبائل فون نمبرز پر شکایت درج کرائی تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوائی ، کورنگی کے دیگر علاقوں الواسع ٹاون ، اللہ والا ٹاون ، کے ڈی ایمپلائز میں بھی ہر گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ کورنگی الیاس گوٹھ میں 5 گھنٹے سے زائد بجلی کی فراہمی معطل رہی
علاوہ ازیں بلدیہ اتحاد ٹاؤن ، قائم خانی کالونی ، گلشن غازی اور اطراف میں اتوار کی شب سے لے کر پیر علی الصبح تک بجلی غائب رہی۔ لائنز ایریا اے بی سینیا لائن اور گلشن ظہور میں بھی کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی ۔ نارتھ ناظم آباد نصرت بھٹو کالونی میں رات کے وقت 4 گھنٹے سے بجلی غائب رہی ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک تو مہنگائی کا بے قابو جن حکومت نے کھلا چھوڑا ہوا ہے، دوسری طرف لوگ پوری رات جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔
شہر قائد میں کاروبار جلدی بند کرکے بجلی بچانے کے منصوبے کے باوجود بھی شہر کے بیشتر علاقے رات بھر تاریکی میں ڈوبے رہے اور شہریوں نے رات جاگ کر گزاری۔
حکومت کی جانب سے مارکیٹیں جلدی بند کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ بجلی بچت منصوبے کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے بجائے کے الیکٹرک نے رات ہوتے ہی شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی بند کردی۔ اتوار کی شام سے لے کر پیر علی الصبح تک شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کا بریک ڈاؤن رہا ۔
لیاری کے بیشتر علاقے اتوار کی شام سے بجلی سے محروم رہے۔ لوڈشیڈنگ کے ستائے شہری رات گئے مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکلے اور غریب شاہ روڈ کو بلاک کر کے ٹائر جلاکر احتجاج کیا۔ مکینوں کا کہنا تھا کہ 8 گھنٹے سے زائد بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جس سے علاقے میں پانی کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بھاری بجلی کے بل بھرنے کے باوجود بھی بنیادی ضرورت کی سہولت مہیا نہیں کی جار ہی۔
دریں اثنا کورنگی سیکٹر 31 کے مختلف علاقوں میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب 2 بجے سے بجلی کی فراہمی معطل کر دی گئی ، شہریوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے شکایتی موبائل فون نمبرز پر شکایت درج کرائی تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوائی ، کورنگی کے دیگر علاقوں الواسع ٹاون ، اللہ والا ٹاون ، کے ڈی ایمپلائز میں بھی ہر گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ کورنگی الیاس گوٹھ میں 5 گھنٹے سے زائد بجلی کی فراہمی معطل رہی
علاوہ ازیں بلدیہ اتحاد ٹاؤن ، قائم خانی کالونی ، گلشن غازی اور اطراف میں اتوار کی شب سے لے کر پیر علی الصبح تک بجلی غائب رہی۔ لائنز ایریا اے بی سینیا لائن اور گلشن ظہور میں بھی کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی ۔ نارتھ ناظم آباد نصرت بھٹو کالونی میں رات کے وقت 4 گھنٹے سے بجلی غائب رہی ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک تو مہنگائی کا بے قابو جن حکومت نے کھلا چھوڑا ہوا ہے، دوسری طرف لوگ پوری رات جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔