’انٹرنیٹ ایکسپلورر‘ کی فرضی قبر کا کتبہ سوشل میڈیا پر مقبول
سافٹ ویئر انجینیئر نے 330 ڈالر خرچ کرکے کتبے پر انٹرنیٹ ایکسپلورر کا لوگو بھی کندہ کرایا ہے
جنوبی کوریا کے انجینیئر نے انٹرنیٹ ایکسپلورر نامی براؤزر کے اختتام پر قبر جیسا کتبہ نصب کیا ہے۔ فوٹو: رائٹرز
انٹرنیٹ کے ابتدائی ایام سے ہمیں ویب کی دنیا دکھانے والے مشہور براؤزر انٹرنیٹ ایکسپلورر اب ریٹائر ہوچکا ہے۔ اسی کی یاد میں جنوبی کوریا میں قبر کا کتبہ لگایا گیا ہے جس میں اس کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔
جنوبی کوریا کے سافٹ ویئر ماہر جنگ کی ینگ نے 330 ڈالر خرچ کرکے قیمتی ماربل پر انٹرنیٹ ایکسپلورر کی ابتدا اور اختتام کی تاریخ لکھوائی ہے۔ اس کے اوپر e شکل کا لوگو بھی کندہ کرایا گیا ہے۔ انگریزی میں یہ بھی لکھا ہے کہ 'یہ دیگربراؤزر ڈاؤن لوڈ کرنے کا ایک بہترین ٹول بھی تھا۔
اس کتبے کی ویڈیو اور تصاویر اب دنیا بھر میں وائرل ہورہی ہیں کیونکہ 27 برس بعد مائیکروسافٹ نے ایکسپلورر کی تکنیکی سپورٹ سے ہاتھ اٹھالیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ قابلِ استعمال نہیں رہا۔ تاہم مائیکروسافٹ ایج کے نام سے ایک قدرے تیزرفتار براؤزر پیش کیا گیا ہے۔
جن افراد نے برسوں انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود صارفین کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہ تھا۔ تاہم جنوبی کوریا کے دفاتر میں اور سرکاری اداروں میں یہ طویل عرصے تک چلتا رہا۔
واضح رہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر 1995 میں منظرِ عام پرآیا تھا۔
جنوبی کوریا کے سافٹ ویئر ماہر جنگ کی ینگ نے 330 ڈالر خرچ کرکے قیمتی ماربل پر انٹرنیٹ ایکسپلورر کی ابتدا اور اختتام کی تاریخ لکھوائی ہے۔ اس کے اوپر e شکل کا لوگو بھی کندہ کرایا گیا ہے۔ انگریزی میں یہ بھی لکھا ہے کہ 'یہ دیگربراؤزر ڈاؤن لوڈ کرنے کا ایک بہترین ٹول بھی تھا۔
اس کتبے کی ویڈیو اور تصاویر اب دنیا بھر میں وائرل ہورہی ہیں کیونکہ 27 برس بعد مائیکروسافٹ نے ایکسپلورر کی تکنیکی سپورٹ سے ہاتھ اٹھالیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ قابلِ استعمال نہیں رہا۔ تاہم مائیکروسافٹ ایج کے نام سے ایک قدرے تیزرفتار براؤزر پیش کیا گیا ہے۔
جن افراد نے برسوں انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود صارفین کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہ تھا۔ تاہم جنوبی کوریا کے دفاتر میں اور سرکاری اداروں میں یہ طویل عرصے تک چلتا رہا۔
واضح رہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر 1995 میں منظرِ عام پرآیا تھا۔