ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو اکثر ارکان اسمبلی جیلوں میں ہوتے عمران خان
ہمارے دشمن ملک میں امن نہیں انتشار چاہتے ہیں اوریہی عناصر بم دھماکوں میں ملوث ہیں،عمران خان
پاک فوج ہماری اپنی فوج ہے اگر یہ مضبوط ہوگی تو ملک بھی مضبوط ہوگا۔، عمران خان فوٹو: فائل
تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو اکثر ارکان اسمبلی جیلوں میں ہوتے۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیرمین کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی سب سے بڑی آزادی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت آہی نہیں سکتی کیونکہ اگر ملک میں قانون پر عملدرآمد ہوتا تو اسمبلی میں میرے ارد گرد بیٹھے لوگ جیلوں میں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہماری اپنی فوج ہے اگر یہ مضبوط ہوگی تو ملک بھی مضبوط ہوگا۔ ملک میں پچھلے 10 برسوں کے دوران کئی فوجی آپریشن ہوچکے ہیں لیکن اب مذاکرات کو موقع ملنا چاہئے۔
عمران خان نے کہا کہ مذاکرات دشمنوں سے ہوتے ہیں دوستوں سے گپ شپ ہوتی ہے، امریکاافغانستان میں طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن وہ تیار نہیں لیکن ہمارے ملک میں طالبان کی اکثریت بات کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر بات چیت سے یہ مسئلہ حل ہوجائے تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوجائیں تو پھر پوری قوم ہی ان سے لڑنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن ملک میں امن نہیں انتشار چاہتے ہیں اوریہی عناصر بم دھماکوں میں ملوث ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا جاسکےجب کہ یہی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ طالبان کے خلاف آپریشن سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیرمین کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی سب سے بڑی آزادی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت آہی نہیں سکتی کیونکہ اگر ملک میں قانون پر عملدرآمد ہوتا تو اسمبلی میں میرے ارد گرد بیٹھے لوگ جیلوں میں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہماری اپنی فوج ہے اگر یہ مضبوط ہوگی تو ملک بھی مضبوط ہوگا۔ ملک میں پچھلے 10 برسوں کے دوران کئی فوجی آپریشن ہوچکے ہیں لیکن اب مذاکرات کو موقع ملنا چاہئے۔
عمران خان نے کہا کہ مذاکرات دشمنوں سے ہوتے ہیں دوستوں سے گپ شپ ہوتی ہے، امریکاافغانستان میں طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن وہ تیار نہیں لیکن ہمارے ملک میں طالبان کی اکثریت بات کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر بات چیت سے یہ مسئلہ حل ہوجائے تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوجائیں تو پھر پوری قوم ہی ان سے لڑنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن ملک میں امن نہیں انتشار چاہتے ہیں اوریہی عناصر بم دھماکوں میں ملوث ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا جاسکےجب کہ یہی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ طالبان کے خلاف آپریشن سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔