قحط بدانتظامی

تھرپارکر ضلع ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی کا گڑھ رہا۔ 1988 کے انتخابات میں رانا چندرسنگھ پیپلزپارٹی کی مدد سے کامیاب ہوئے

tauceeph@gmail.com

تھرپارکر میں پھر قحط پڑگیا، 128 سے زائد بچے جاں بحق ہوگئے۔ حکومت نے پہلے مرنے والوں کی تعداد 40بتائی پھر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے مٹھی میں سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کرنے اور ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کے احکامات جاری کرکے اپنا فریضہ پورا کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے فوج کو امدادی کاموں کا حکم دے دیا پھر خود دور ے پر پہنچ گئے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے صورتحال کا ازخود نوٹس لے لیا۔ تھرپارکر کی آبادی 60 لاکھ کے قریب ہے، بیشتر آبادی ریگستان میں پھیلے ہوئے دور دراز گوٹھوں میں رہتی ہے۔ یہ واحد ضلع ہے جہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے اور بیشتر ہندوؤں کا تعلق نچلی ذاتوں سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق تھرپارکر شہر ڈیپلو، چھاچھڑو، اسلام کوٹ اور ننگرپار غذائی قلت سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق 175,000 افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں جن میں بیشتر بچے ہیں، ان میں سے بیشتر خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر بارانی علاقے میں ہجرت کرنے پرمجبور ہوئے ہیں۔ تھر کے معاملات پر نظر رکھنے والے بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ابتدائی ہے۔ آیندہ دنوں میں متاثرہ لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیشتر بچے غذا کی کمی کی بنا پر موت کا شکار ہوئے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اموات کی ذمے داری ڈاکٹر وں پر نہیں بلکہ غربت، بدانتظامی اور کرپشن بنیادی وجوہات ہیں۔

تھرپارکر کا شمار ملک کے پسماندہ ترین ضلع میں ہوتا ہے۔ تھرپارکر ضلع کا بڑا شہر مٹھی ہے جہاں ایک بڑاسول اسپتال ہے۔ مٹھی سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ڈکٹر مہیش کمار ملکانی اس ضلع کے حالات زار بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مٹھی اسپتال میں اب توسیع کے بعد 74 بستروں کی گنجائش پیدا ہوئی ہے مگر اسپتال میں ڈاکٹروں کی آدھی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ پورے تھرپارکر میں ایک خاتون گائناکالوجسٹ ہے جو مٹھی میں تعینات ہے۔ تھر کی خواتین غیر تربیت یافتہ ہیں، پیرامیڈیکل اسٹاف کی مدد سے اپنی زندگی بچانے کی کوششیں کیں۔ ایک اخبار میں شایع ہونے والی رپورٹ میں میرپورخاص ڈویژن کے کمشنر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 10 ہزار ٹن سے زیادہ گندم مٹھی کے گوداموں میں موجود تھی مگر گندم دیہاتوں میں اس بنا پرتقسیم نہیں ہوئی کہ ٹرانسپورٹ کے لیے فنڈز موجود نہیں تھے، یوں غلہ سرکاری گوداموں میں محفوظ رہا اور لوگ مر رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی ہے کہ سندھ میں صرف تھرپارکر ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے اضلاع میں بھی یہی صورتحال ہے۔ موسمیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اگست میں صحرائے تھر میں بارش شروع ہوجائے تو پھر قحط کا خطرہ نہیں ہوگا، مگر موسم گرما میں خاطر خواہ بارشیں نہ ہوئیں تو پھر نئے سال کے آغاز پر فصل نہ اگنے کی بنا پر قحط کی صورتحال پیدا ہوئی۔

تھرپارکر ضلع ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی کا گڑھ رہا۔ 1988 کے انتخابات میں رانا چندرسنگھ پیپلزپارٹی کی مدد سے کامیاب ہوئے، بعد میں وہ پیپلزپارٹی سے اختلاف کی بنا پر علیحدہ ہوگئے، ڈاکٹر ارباب رحیم جنرل پرویز مشرف کی مدد سے سندھ کے وزیراعلیٰ بنے مگر مجموعی طور پر پیپلزپارٹی ہی کو تھرپارکر کے عوام کی نمایندگی کا حق دیا، مگر پیپلزپارٹی نے سندھ کے سب سے زیادہ پسماندہ صوبے کو ترقی کی دوڑ سے منسلک کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کیا جس کی ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تھرپارکر میں ہر سال دو سال بعد غذائی قلت پیدا ہوتی ہے اور وبائی بیماریاں پھیلتی ہیں، خاص طور پر عورتیں کم خوراک ملنے پر مرجاتی ہیں اور خاندان ہجرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس دفعہ بھی کم بارشوں کی بنا پر قحط جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔ سرکاری افسروں، غیر سرکاری تنظیموں کے اراکین کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں اب بھی سڑکوں کی کمی ہے، بیشتر گوٹھوں تک پہنچنے کے لیے سڑکیں موجود نہیں ہیں، اس طرح اب بھی صحر میں سفر کے لیے پرانے چھکڑے استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ میرپورخاص سے ایک چھوٹی سی ریلوے لائن بھارت کی سرحد تک جاتی ہے، جس پر ہفتے میں ایک بار تھر ایکسپریس چلتی ہے مگر مجموعی طور پر یہ ریلوے لائن تھر کی پسماندگی ختم کرنے میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کرتی۔ اس طرح صحت اور تعلیم کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔


تھر پارکر کے منتخب اراکین اسمبلی اس حقیقت کو افسوس کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ مٹھی کے علاوہ کسی اور شہر میں جدید اسپتال موجود نہیں ہے۔ چھوٹے اسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں اور بیشتر جگہوں پر تو کمپاؤنڈر اور لیڈی ہیلتھ ورکز بھی مریضوں کے علاج کے لیے موجود نہیں ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہے۔ غربت کی سطح زیادہ ہے، اس لیے والدین اپنے بچوں کو اسکولوں میں تعلیم دینے کے لیے نہیں بھیجتے، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کی شرح انتہائی کم ہے۔ بیشتر لوگوں کا پیشہ زراعت ہے اور آبادی کی اکثریت بڑے زمینداروں کی زمینوں پر کھیتی باڑی کرتی ہے، یوں ان لوگوں کی زندگیوں کا دارومدار ان زمینداروں پر ہوتا ہے۔ کاشت کے لیے بارش ہی واحد ذریعہ ہے، بارش نہ ہونے پر فصل نہیں ہوتی، جب کہ تعلیم حاصل نہ کرنے، زراعت کے علاوہ کوئی ایک پیشہ اختیار نہ کرنے کی بناء پر غربت کی سطح میں کمی نہیں آئی۔ اگرچہ تعلیم پھیلنے کی بناء پر متوسط طبقے کا حجم بڑھا ہے مگر تھرپارکر کے ڈومیسائل پر انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان تھرپارکر میں فرائض انجام دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مٹھی اسپتال میں ڈاکٹروں کی اسامیاں خالی ہیں اور دوسرے اسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں، تھر کے ڈومیسائل پر ڈاکٹر بننے اور سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد معلوم کی جائے تو حیرت انگیز حقائق سامنے آئیں گے۔ بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں قحط پڑنے کی بنیادی وجہ سندھ حکومت میں کرپشن اور میرٹ کو پامال کرنے کی پالیسی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ اگر موسم گرما میں بارشیں نہ ہو تو اس کے اثرات اگلے سال رونما ہوتے ہیں مگر وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی کی قیاد ت اس بارے میں لاعلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرپورخاص، سانگھڑ کے سرکاری گوداموں میں گندم موجود ہے، اس طرح دواؤں کی خریداری کے لیے کروڑوں روپے کا فنڈ بھی موجود ہے مگر محض ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے لیے فنڈز فراہم نہ کرنے کی بنا پر انسانی سانحہ رونما ہوا۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ سندھی اخبارات میں ایک ماہ سے خبریں شایع ہورہی تھیں مگر کسی نے توجہ نہ دی۔ حکومت سندھ، سندھ کلچرل فیسٹیول میں اربوں روپے خرچ کرنے میں مشغول رہی۔ اب مٹھی میں وزراء کی کھانے کی دعوت کی تصاویر پوری دنیا میں مذاق کا باعث بن رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت منتخب بلدیاتی نظام کو قبول کرنے کو کسی صورت تیارنہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے واضح احکامات کے باوجود حکومت نے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے، اگر اس وقت تھرپارکر میں بااختیار بلدیاتی ادارے قائم ہوتے اور ان اداروں کے پاس واضح اختیارات اور فنڈز موجود ہوتے تو محض ٹرانسپورٹ دستیاب نہ ہونے کی بناء پر غذائی قلت پیدا نہیں ہوتی۔ سندھ حکومت نے اپنے رہنماؤں کے عزیزوں کو سرکاری عہدوں پر تعینات کیا جنہوں نے محض دولت کمانے کے کچھ نہیں کیا۔

نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ڈاکٹر امرتا سین نے انگریز دور میں بنگال میں پڑنے والے قحط کے بارے میں تحقیق کرکے انکشاف کیا کہ اس وقت بنگال کے سرکاری گوداموں میں چاول موجود تھا مگر حکومت کی نااہلی کی بناء پر یہ چاول بنگال کے دوردراز علاقوں تک نہیں پہنچ سکا، یوں لاکھوں افراد بھوک سے مرگئے۔ مگر وہ دور تو انگریزوں کا تھا، اب ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد سندھ کی منتخب حکومت نے انگریزوں جیسی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ ہر معاملے کو کمیشن کی وصولی اور سفارش سے منسلک کردیا گیا ہے، گندم گوداموں میں ہونے کے باوجود تھرپارکر میں لوگ مررہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ تھرپارکر میں ہر سال بعد یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے اور بہت سے لوگ مرجاتے ہیں مگر اب معاملہ محض تھرپارکر کا نہیں، سندھ کے دوسرے اضلاع میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ زرداری صاحب اگر سندھ کے عوام کے خیر خواہ ہیں تو انھیں اپنی حکومت کو ختم کرکے نئی حکومت قائم کرنی چاہیے اور تھر میں رونما ہونے والی صورتحال کی حقیقی وجوہات کا پتہ چلانے کے لیے میرٹ پر فیصلہ کرنے والے افسروں یا سیاستدانوں یا ججوں پر مشتمل کمیشن قائم کرنا چاہیے اور اس کمیشن کی رپورٹ پر اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے اور ذمے داروں کو قرار واقعی سزا ہونی چاہیے اور آیندہ کے لیے جامع منصوبہ بنانا چاہیے۔ کیونکہ تھر خوشحال نہ ہوا تو پیپلزپارٹی اپنی افادیت کھو دے گی۔
Load Next Story