سیروٹونِن کی کم سطح کا ڈپریشن سے کوئی واضح تعلق نہیں تحقیق
محققین کے مطابق کیمیائی عدم توازن ڈپریشن کا ممکنہ طور پر سبب نہیں ہوسکتا
محققین کے مطابق 85 سے 90 فی صد لوگ کایہ ماننا ہے کہ سیروٹونِن کی کم سطح یا کیمیائی عدم توازن ڈپریشن کا سبب بنتا ہے
کراچی:
ایک نئی تحقیق کے مطابق سیروٹونِن کی سطح میں کمی ڈپریشن کا سبب نہیں ہوسکتا۔ سیروٹونِن ایک ایسا کیمیکل ہوتا ہے جو دماغ میں موجود اعصابی خلیوں اور پورے جسم کے درمیان پیغام رسانی کرتا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن میں موجودہ مطالعوں پر کی جانے والی نظرثانی تحقیق میں محققین کو یہ معلوم ہوا کہ کیمیائی عدم توازن ڈپریشن کا ممکنہ طور پر سبب نہیں ہوسکتا۔ محققین نے مریضوں سے انسداد ڈپریشن ادویات کے علاوہ دیگر علاجوں پر بھی غور کرنے کے لیے کہا۔
البتہ، دیگر ماہرینِ صحت نے لوگوں کو زور دیا ہے کہ تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی صورت میں وہ انسداد ڈپریشن ادویات کھانا نہ چھوڑیں اور اس متعلق بحث کی کہ یہ ادویات ڈپریشن کا علاج کرنے میں مؤثر ہوتی ہیں۔
محققین کے مطابق 85 سے 90 فی صد لوگ کایہ ماننا ہے کہ سیروٹونِن کی کم سطح یا کیمیائی عدم توازن ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔
یو سی ایل میں سائیکیئٹری کی پروفیسر اور تحقیق کی سربرہ مصنفہ جوانا مونکریف کا کہنا تھا 'کسی چیز کی نفی کو ثابت کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ متعدد دہائیوں پر محیط بڑے پیمانے پر کی جانے والی اس تحقیق کے بعد ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ڈپریشن سیروٹونِن کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے ہوتا ہے، بالخصوص اس کی کم سطح یا کم فعال ہونے کی وجہ سے۔
انہوں نے کہا 'ڈپریشن کی کیمیائی عدم توازن کا مشہور نظریہ، انسدان ڈپریشن ادویات کے استعمال میں اضافے کے ساتھ جُڑ گیا ہے۔ ہزاروں لوگ اینٹی ڈپریسنٹ کے نقصانات کا سامنا کرتے ہیں پھر بھی ان نسخوں کے لکھے جانے میں اضافہ ہورہا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ عوام کو آگاہ کیا جائے کہ ڈپریشن سے متعلق اس نظریے کی بنیادیں سائنس میں نہیں ہیں۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق سیروٹونِن کی سطح میں کمی ڈپریشن کا سبب نہیں ہوسکتا۔ سیروٹونِن ایک ایسا کیمیکل ہوتا ہے جو دماغ میں موجود اعصابی خلیوں اور پورے جسم کے درمیان پیغام رسانی کرتا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن میں موجودہ مطالعوں پر کی جانے والی نظرثانی تحقیق میں محققین کو یہ معلوم ہوا کہ کیمیائی عدم توازن ڈپریشن کا ممکنہ طور پر سبب نہیں ہوسکتا۔ محققین نے مریضوں سے انسداد ڈپریشن ادویات کے علاوہ دیگر علاجوں پر بھی غور کرنے کے لیے کہا۔
البتہ، دیگر ماہرینِ صحت نے لوگوں کو زور دیا ہے کہ تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی صورت میں وہ انسداد ڈپریشن ادویات کھانا نہ چھوڑیں اور اس متعلق بحث کی کہ یہ ادویات ڈپریشن کا علاج کرنے میں مؤثر ہوتی ہیں۔
محققین کے مطابق 85 سے 90 فی صد لوگ کایہ ماننا ہے کہ سیروٹونِن کی کم سطح یا کیمیائی عدم توازن ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔
یو سی ایل میں سائیکیئٹری کی پروفیسر اور تحقیق کی سربرہ مصنفہ جوانا مونکریف کا کہنا تھا 'کسی چیز کی نفی کو ثابت کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ متعدد دہائیوں پر محیط بڑے پیمانے پر کی جانے والی اس تحقیق کے بعد ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ڈپریشن سیروٹونِن کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے ہوتا ہے، بالخصوص اس کی کم سطح یا کم فعال ہونے کی وجہ سے۔
انہوں نے کہا 'ڈپریشن کی کیمیائی عدم توازن کا مشہور نظریہ، انسدان ڈپریشن ادویات کے استعمال میں اضافے کے ساتھ جُڑ گیا ہے۔ ہزاروں لوگ اینٹی ڈپریسنٹ کے نقصانات کا سامنا کرتے ہیں پھر بھی ان نسخوں کے لکھے جانے میں اضافہ ہورہا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ عوام کو آگاہ کیا جائے کہ ڈپریشن سے متعلق اس نظریے کی بنیادیں سائنس میں نہیں ہیں۔