ضرورت پڑی تو کارروائی کرینگے مذاکرات سے حکومتی رٹ قائم کرنا چاہتے ہیں سرتاج عزیز

ٹائم فریم نہیں دے سکتے، یورپی یونین یا کسی اور ملک کو طالبان کے حوالے سے کوئی شرط رکھنے کی ضرورت نہیں

افغانستان میں خانہ جنگی نہیں امن ہونا چاہیے، لندن میں خطاب، برطانوی وزرا سے ملاقاتیں، پاکستان سے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے، برطانیہ۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاہے کہ ہماری کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے حکومتی رٹ قائم ہو جائے، طالبان سے مذاکرات کاکوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔


لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز میں خطاب، برطانوی وزرا سے ملاقاتوں اور میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا طالبان حکومت کی رٹ چیلنج کر رہے ہیں حکومت اپنی رٹ قائم کرکے رہیگی ضرورت پڑی توایکشن بھی کرینگے۔ یورپی یونین یا کسی اور ملک کو طالبان کے حوالے سے کوئی شرط رکھنے کی ضرورت نہیں، ہماری اپنی پالیسی بہت واضح اورجامع ہے۔افغانستان میں خانہ جنگی نہیں، امن ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا نائن الیون کے بعد امریکاکی طرف سے افغانستان میںکی جانے والی مداخلت امریکی تاریخ کی سب سے لمبی جنگ بن چکی ہے جس کوایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہو چکاہے اوراس کھربوں ڈالرز خرچ ہوچکے ہیں۔ افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان کو سرحد پارمنظم جرائم کابھی سامناہے۔ افغانستان میں پاکستان کاکوئی پسندیدہ نہیں، وہاں خانہ جنگی نہیں امن ہونا چاہیے،ہم توقع رکھتے ہیںکہ دوسرے علاقائی کھلاڑی افغانستان کے معاملات میں مداخلت سے باز رہیںگے۔ سرتاج عزیز کی برطانوی وزیر دفاع فلپ ہامونڈ اور وزیرداخلہ تھریسامے کے ساتھ ملاقاتوں میں ملکی سلامتی، دہشت گردی کیخلاف جنگ اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفاع اور داخلہ کے برطانوی وزرا نے کہا برطانیہ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
Load Next Story