سیلاب کی تباہ کاریاں وفاقی ادارے کے پی میں کچھ نہیں کررہے محمود خان

یہ قومی سانحہ ہے جس میں تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،ضرورت پڑی تو اپنا ترقیاتی بجٹ بھی متاثرین پر لگادینگے

یہ بلند و بالا عمارتیں ورسک روڈ اور رحمان بابا کمپلیکس میں تعمیر کی جائیں گی (فوٹو : فائل)

وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان نے کہا ہے کہ سیلابی کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور خیبر پختون خوا میں وفاقی ادارے کچھ بھی نہیں کر رہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ حالیہ سیلابی صورتحال میں انتظامیہ اور ریسکیو سمیت تمام ادارے ہائی الرٹ ہیں، سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ڈی آئی خان میں اضافی ریسکیو عملہ تعینات کردیا گیا ہے۔

محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے ایک ارب روپے جاری کیے ہیں اور مزید دو ارب جاری کیے جارہے ہیں، صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، سیلاب میں پھنسے لوگوں کو خوراک اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔


یہ پڑھیں : خیبرپختون خوا میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، ایمرجنسی نافذ، اسکول بند، 10 افراد جاں بحق

انہوں نے کہا کہ یہ قومی سانحہ ہے، تمام اداروں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، بدقسمتی سے صوبے میں وفاقی حکومت کے ادارے کچھ بھی نہیں کر رہے، ضرورت پڑنے پر صوبائی حکومت اپنا ترقیاتی بجٹ بھی سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب زدگان کے معاوضوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، تمام سیلاب زدگان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، متاثرہ علاقوں میں جونہی پانی نکلے گا بحالی کے کاموں کا آغاز کیا جائے گا، متاثرین سیلاب ہمارے اپنے لوگ اور ہمارے بہن بھائی ہیں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

 
Load Next Story