’’مفت اور لازمی تعلیم‘‘ کے قانون پر عملدرآمد شروع کنسلٹنٹ کے تقرر کا فیصلہ
بچوں کواسکول نہ بھجوانے والے والدین کوسزائیں دلوانے کیلیے جوڈیشنل مجسٹریٹ کوسزا دینے کا اختیارتفویض کرنیکی سفارش
محکمہ تعلیم نے محکمہ قانون کوسمری بھجوادی،گزشتہ برس13فروری کوسندھ اسمبلی میں صوبے میں مفت اورلازمی تعلیم کے بل کی منظوری دی گئی تھی . فوٹو: فائل
محکمہ تعلیم کو 13 ماہ گزرنے کے بعد سندھ میں ''مفت اورلازمی تعلیم''کے قانون پر عملدرآمد کاخیال آگیاہے ۔
تاہم اس سلسلے میںمحکمہ تعلیم نے قانون کے محض ایک پہلوپرغورکرتے ہوئے اپنے بچوں کو اسکول نہ بھجوانے والے والدین کوقانونی دائرہ کارمیں لانے کے لیے منصوبہ بندی شروع کی ہے اوراس پرعملدرآمد کے لیے محکمہ میں باقاعدہ طورپر''کنسلٹنٹ ''کے تقررکافیصلہ کیاگیاہے ، اس قانون کے تحت اپنے بچوں کواسکول نہ بھجوانے والے والدین کوسزائیں دلوانے کے لیے علیحدہ عدالت قائم کرنے یاجوڈیشنل مجسٹریٹ کوسزا دینے کا اختیار تفویض کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنزسندھ کی نااہلی کے سبب فی الحال نجی تعلیمی اداروں کواس قانون کاپابند کرنے کے لیے کسی قسم کی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکی کیونکہ کراچی کے نجی اسکول پہلے ہی ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے دائرہ اختیارمیں ہونے کے باوجود انتظامی طورپران کے قابومیں نہیں ہیں، صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکے مطابق ایک سمری صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے صوبائی محکمہ قانون کوبھجوائی گئی ہے اس قانون کے تحت اپنے بچوں کواسکول نہ بھیجنے والے والدین کے لیے ابتدامیں جرمانے کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔
جبکہ اس کے باوجود قانون شکنی کرنے والے والدین کوقانون مسودے کے تحت حراست میں لینے اور سزا دیکر3سے 6ماہ تک جیل بھجوانے کی سزابھی قانون میں شامل ہے تاہم ان سزاؤں پر عملدرآمد کے لیے کسی قسم کانظام موجود نہیں لہذا محکمہ کی جانب سے قانون پراطلاق کی صورت میں اس پرعمل نہ کرنے والوں کوسزائیں دینے کے لیے علیحدہ کورٹ یاجوڈیشنل مجسٹریٹ کوخصوصی اختیارات دلوانے کی سمری محکمہ قانون کوبھجوائی گئی ہے جس کے بعد اگرمحکمہ تعلیم اس سلسلے میں متعلقہ کورٹ سے کسی کی شکایت کرے تواسے سزادلوائی جاسکے، سیکریٹری تعلیم نے بتایاکہ قانون پر عملدرآمد کے لیے ایک کنسلٹنٹ کے تقررکابھی فیصلہ کیاگیاہے جس پر کام جاری ہے، یادرہے کہ گزشتہ برس13فروری کوسندھ اسمبلی میں صوبے میں مفت اورلازمی تعلیم کے بل کی منظوری دی گئی تھی جس کے بعد سے تاحال یہ قانون صرف کاغذوں کی نظرہوارکھاہے اس قانون کے تحت صوبے میں5سے16برس کی عمر کے بچوں کوتعلیم کی مفت سہولت فراہم کرنے حکومت کی ذمے داری ہے، واضح رہے کہ اس سلسلے میں پاس کردہ بل میں نجی اسکولوں کوبھی غریب طلبہ کومفت تعلیم دینے کے لیے کئی قانونی شقوں پر پابند کیاگیاہے تاہم منصوبہ بندی کے فقدان کے سبب ابھی اس جانب توجہ ہی نہیں دی جاسکی ہے جبکہ خود ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ بھی نجی اسکولوں سے اس قانون پر عملدرآمد کی اہلیت نہیں رکھتا۔
تاہم اس سلسلے میںمحکمہ تعلیم نے قانون کے محض ایک پہلوپرغورکرتے ہوئے اپنے بچوں کو اسکول نہ بھجوانے والے والدین کوقانونی دائرہ کارمیں لانے کے لیے منصوبہ بندی شروع کی ہے اوراس پرعملدرآمد کے لیے محکمہ میں باقاعدہ طورپر''کنسلٹنٹ ''کے تقررکافیصلہ کیاگیاہے ، اس قانون کے تحت اپنے بچوں کواسکول نہ بھجوانے والے والدین کوسزائیں دلوانے کے لیے علیحدہ عدالت قائم کرنے یاجوڈیشنل مجسٹریٹ کوسزا دینے کا اختیار تفویض کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنزسندھ کی نااہلی کے سبب فی الحال نجی تعلیمی اداروں کواس قانون کاپابند کرنے کے لیے کسی قسم کی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکی کیونکہ کراچی کے نجی اسکول پہلے ہی ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے دائرہ اختیارمیں ہونے کے باوجود انتظامی طورپران کے قابومیں نہیں ہیں، صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکے مطابق ایک سمری صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے صوبائی محکمہ قانون کوبھجوائی گئی ہے اس قانون کے تحت اپنے بچوں کواسکول نہ بھیجنے والے والدین کے لیے ابتدامیں جرمانے کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔
جبکہ اس کے باوجود قانون شکنی کرنے والے والدین کوقانون مسودے کے تحت حراست میں لینے اور سزا دیکر3سے 6ماہ تک جیل بھجوانے کی سزابھی قانون میں شامل ہے تاہم ان سزاؤں پر عملدرآمد کے لیے کسی قسم کانظام موجود نہیں لہذا محکمہ کی جانب سے قانون پراطلاق کی صورت میں اس پرعمل نہ کرنے والوں کوسزائیں دینے کے لیے علیحدہ کورٹ یاجوڈیشنل مجسٹریٹ کوخصوصی اختیارات دلوانے کی سمری محکمہ قانون کوبھجوائی گئی ہے جس کے بعد اگرمحکمہ تعلیم اس سلسلے میں متعلقہ کورٹ سے کسی کی شکایت کرے تواسے سزادلوائی جاسکے، سیکریٹری تعلیم نے بتایاکہ قانون پر عملدرآمد کے لیے ایک کنسلٹنٹ کے تقررکابھی فیصلہ کیاگیاہے جس پر کام جاری ہے، یادرہے کہ گزشتہ برس13فروری کوسندھ اسمبلی میں صوبے میں مفت اورلازمی تعلیم کے بل کی منظوری دی گئی تھی جس کے بعد سے تاحال یہ قانون صرف کاغذوں کی نظرہوارکھاہے اس قانون کے تحت صوبے میں5سے16برس کی عمر کے بچوں کوتعلیم کی مفت سہولت فراہم کرنے حکومت کی ذمے داری ہے، واضح رہے کہ اس سلسلے میں پاس کردہ بل میں نجی اسکولوں کوبھی غریب طلبہ کومفت تعلیم دینے کے لیے کئی قانونی شقوں پر پابند کیاگیاہے تاہم منصوبہ بندی کے فقدان کے سبب ابھی اس جانب توجہ ہی نہیں دی جاسکی ہے جبکہ خود ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ بھی نجی اسکولوں سے اس قانون پر عملدرآمد کی اہلیت نہیں رکھتا۔