ترجیحی تجارتی معاہدہ پاک بحرین مفاد میں ہے زکریا عثمان

باہمی تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے،بحرینی مالیاتی ادارے پاکستانی منڈی کاجائزہ لیں

اسلام آباد: ایف پی سی سی آئی کے صدر زکریا عثمان پاک بحرین بزنس فورم میں بحرین چیمبرآف کامرس کے چیئرمین خالدالموید کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعددستاویز کا تبادلہ کررہے ہیں۔ فوٹو: این این آئی

وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے صدر زکریا عثمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بحرین کے مابین ترجیحی تجارت کا معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، اس سے دونوں ملکوں کے عوام فائدہ پہنچے گا۔


بحرین اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدے کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات بحرین کے راستہ امریکا میں جگہ بنا سکتی ہیں جبکہ بحرین پاکستان کے ذریعے علاقائی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان بزنس کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، بحرین کے وزیر تجارت ڈاکٹر حسن فخرو، وزیر ٹرانسپورٹ کمال محمد احمد، مرکزی چیمبر کے صدرخالد الموید، وزیر تجارت خرم دستگیر خان، وفاقی چیمبر کے سابق صدر زبیر احمد ملک، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدورخرم سعید، شیخ امتیاز، عدنان عدیل اور بڑی تعداد میں دونوں ممالک کی کاروباری برادری موجود تھی۔

زکریا عثمان نے کہا کہ بحرین برادر اسلامی اور خطے میں قریبی ملک ہے مگر دونوں ممالک کی تجارت صرف 40کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں معمولی کوشش سے خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے، بحرین کے 413 مالیاتی اداروں کو پاکستان کی منڈی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک کی معاشی ساخت اور حالات مختلف ہیں مگر 400 پاکستانی کمپنیاں اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، روابط بڑھنے سے ہی سرمایہ کاری کا فروغ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نادر موقع ہے، یہ ایک بہت بڑی کنریومر مارکیٹ بھی ہے جہاں 4 موسم اور آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہاں 700 غیر ملکی کمپنیاں آزادی سے کام کرتے ہوئے اچھا منافع کما رہی ہیں اس لیے بحرین کے سرمایہ کاروں کو بھی اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story