کراچی اسٹاک مارکیٹ بڑے پیمانے پر فروخت 27 ہزارکی نفسیاتی حد بھی گرگئی

غیرملکی سرمایہ کاروں نے 44 لاکھ ڈالر نکال لیے، انڈیکس383 پوائنٹس کی نمایاں کمی سے26 ہزار765 پر بند

غیرملکی سرمایہ کاروں نے 44 لاکھ ڈالر نکال لیے، انڈیکس383 پوائنٹس کی نمایاں کمی سے26 ہزار765 پر بند۔ فوٹو : پی پی آئی/فائل

دنیا کی ابھرتی ہوئی کیپٹل مارکیٹس میں مندی کے اثرات کراچی اسٹاک ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوئے جہاں غیرملکیوں سمیت دیگر شعبوں کی جانب سے سرمائے کے انخلا نے جمعہ کو معمولی نوعیت کی تیزی کے بعد بدترین مندی رونما کی جس سے انڈیکس کی27000 کی نفسیاتی حد بھی گرگئی۔


مندی کے باعث61.03 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے83 ارب51 کروڑ85 لاکھ 58 ہزار452 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ بڑی نوعیت کی مندی میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے اہم کردار کیا جن کی فروخت کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے مقامی شعبوں نے بھی خوفزدہ ہو کر حصص کی آف لوڈنگ کوترجیح دی، مندی میں ایم سی بی بینک، اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے حصص نے اہم کردار ادا کیا ہے، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر60 لاکھ64 ہزار997 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی جس سے ایک موقع پرصرف62 پوائنٹس کی تیزی رونما ہوئی لیکن اس تیزی کے اثرات اس وقت زائل ہوگئے جب کاروباری دورانیے میں غیرملکیوں کی جانب سے43 لاکھ71 ہزار864 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے6 لاکھ24 ہزار964 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے10 لاکھ68 ہزار168 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس383.03 پوائنٹس کی کمی سے26765.49 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس348.77 پوائنٹس کی کمی سے 18990.38 اور کے ایم آئی30 انڈیکس604.01 پوائنٹس کی کمی سے 44606.10 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 9.34 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ99 لاکھ29 ہزار530 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار349 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں116 کے بھائو میں اضافہ، 213 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story