تھر میں سندھ حکومت کی غفلت سے پڑنے والا قحط مزید 4افراد کی زندگی نگل گیا
عدالت عظمیٰ اوروفاق کے نوٹس کے باوجود سندھ حکومت تمام تر صورت حال پر قابو پانے کے لئے مستعد نظرنہیں آتی
اسپتالوں میں ادویات اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث بچوں سمیت 160 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ فوٹو: فائل
قحط زدہ تھرپارکر میں بھوک، پیاس اور بیماریوں کے باعث اموات کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور آج مزید 4 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 160 سے تجاوز کرچکی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مٹھی اسپتال میں 16 سالہ میگی اور 22 سالہ ایسرداس دم توڑگئے۔ چھاچھرو کےقریبی گاؤں میں 22 سالہ گومانو بھیل بھی چل بسا جب کہ تھر پارکر کے تعلقھ اسپتال میں 4 سالھ بچہ دم توڑ گیا۔ مٹھی اسپتال میں تھرپارکر کے مختلف علاقوں سےمزید 9 بیمار بچے لائے گئے ہیں جس کے بعد صرف مٹھی اسپتال میں داخل بیمار بچوں کی تعداد 67 ہوگئی۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال دسمبر سے گندم کی تقسیم میں غفلت اور اسپتالوں میں ادویات اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث بچوں سمیت 195 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام ترصورتحال کا ذمہ دار بھی سندھ حکومت کو ٹھہرایا، دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے تھر میں قحط کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے علاقے کا دورہ کیا تھا اورانتظامیہ کی لاپرواہی سے ہونیوالی ہلاکتوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صورت حال کی بہتری کے لئے ایک ارب روپے امداد کا بھی اعلان کیا ۔
عدالت عظمیٰ اوروفاق کے نوٹس کے باوجود نہ تو سندھ حکومت تمام تر صورت حال پر قابو پانے کے لئے اتنی مستعد نظر آتی ہے اورنہ ہی مقامی افراد کی حالت میں ابھی تک کوئی تبدیلی آئی جب کہ بھوک، پیاس و بیماریوں کے باعث اموات کا سلسلہ جاری ہے اور امداد نہ ملنے پر لوگ سراپا احتجاج ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مٹھی اسپتال میں 16 سالہ میگی اور 22 سالہ ایسرداس دم توڑگئے۔ چھاچھرو کےقریبی گاؤں میں 22 سالہ گومانو بھیل بھی چل بسا جب کہ تھر پارکر کے تعلقھ اسپتال میں 4 سالھ بچہ دم توڑ گیا۔ مٹھی اسپتال میں تھرپارکر کے مختلف علاقوں سےمزید 9 بیمار بچے لائے گئے ہیں جس کے بعد صرف مٹھی اسپتال میں داخل بیمار بچوں کی تعداد 67 ہوگئی۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال دسمبر سے گندم کی تقسیم میں غفلت اور اسپتالوں میں ادویات اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث بچوں سمیت 195 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام ترصورتحال کا ذمہ دار بھی سندھ حکومت کو ٹھہرایا، دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے تھر میں قحط کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے علاقے کا دورہ کیا تھا اورانتظامیہ کی لاپرواہی سے ہونیوالی ہلاکتوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صورت حال کی بہتری کے لئے ایک ارب روپے امداد کا بھی اعلان کیا ۔
عدالت عظمیٰ اوروفاق کے نوٹس کے باوجود نہ تو سندھ حکومت تمام تر صورت حال پر قابو پانے کے لئے اتنی مستعد نظر آتی ہے اورنہ ہی مقامی افراد کی حالت میں ابھی تک کوئی تبدیلی آئی جب کہ بھوک، پیاس و بیماریوں کے باعث اموات کا سلسلہ جاری ہے اور امداد نہ ملنے پر لوگ سراپا احتجاج ہیں۔