نمیبیا کی چراہ گاہوں کے پُراسرار دائروں کا معمہ حل ہوگیا

یہ پُر اسرار دائرے تقریباً 80 سے 140 کلومیٹر طویل رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں

(تصویر: ٹوئٹر)

برِاعظم افریقا کے جنوبی ملک نمیبیا کی چراہ گاہوں میں موجود عجیب و غریب دائروں نے سائنس دانوں کو تقریباً پانچ دہائیوں تک الجھائے رکھا لیکن ایک نئی تحقیق میں اس پُراسرار معاملے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔

نمیب کے ساحلی علاقے پر موجود سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں موجود یہ دائرے تقریباً 80 سے 140 کلومیٹر طویل رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ دیمک اس معاملے کی ذمہ دار ہیں لیکن پرسپیکٹِیوز اِن پلانٹ اِکالوجی، ایوولوشن اینڈ سسٹیمیٹکس نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ دائرے گھاس محدود پانی کی رسد کی وجہ سے خود بناتی ہوں۔

سائنس دانوں نے متعدد صحرائی علاقوں میں کبھی کبھار ہونے والی بارش اور گھاس کی جڑوں اور شاخوں کا تجزیہ کرتے ہوئے اور ممکنہ طور پر دیمک کے جڑوں کو نقصان پہنچانے کے امکانات کے پیشِ نظر یہ اخذ کیا کہ یہ پراسرار دائرے پانی کی کمی کی وجہ سے بنے۔
Load Next Story