مسٹرپرفیکٹ نے ’’بھارتی پارلیمنٹ‘‘ کو مجرموں کی آماجگاہ قرار دیدیا
اس وقت بھارتی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے 30 فیصد سے زائد ارکان جرائم پیشہ ہیں،عامر خان
بھارتی عوام اپنے چھوٹے مفاد کے لئے وٹ جیسی طاقت کو نہ بیچیں۔عامرخان فوٹو: فائل
بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکٹ عامر خان نے کہا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ مجرموں کی آماج گاہ بن چکی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔
بھارتی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے اپنے پروگرام میں عامر خان نے کہا کہ ریاست کے منتخب ادارے ہوں یا بھارتی پارلیمنٹ تمام جگہوں پر جرائم پیشہ افراد بیٹھے ہوئے ہیں۔ قانون ساز ادارے ان جرائم پیشہ افراد کے لئے گنگا کی طرح ہے جہاں اشنان کرکے ناصرف وہ پاک ہوجاتے ہیں بلکہ انہیں آئندہ 5 سال کے لئے بھی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے، صورت حال یہ ہے کہ اس وقت بھارتی لوک سھا اور راجیہ سبھا کے 30 فیصد سے زائد ارکان جرائم پیشہ ہیں، جن پر قتل، اقدام قتل، زیادتی، اغوا برائے تاوان اور انسانی اسمگلنگ سمیت مختلف سنگین جرائم مقدمات زیر سماعت ہیں اور بدقسمتی سے ہر انتخابات میں جرائم پیشہ افراد کی شمولیت بڑھتی جارہی ہے۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جمہوری ملک کی طرح بھارت میں بھی عوام ہی سیاستدانوں کو پیدا کرتے ہیں اس لئے وہ اپیل کرتے ہیں کہ اپنے چھوٹے سے مفاد کے لئے ووٹ جیسی طاقت کو بیچنا ان کے اپنے لئے خطرناک ہے کیونکہ ان ہی کے ووٹ سے وہ ان پر جبر کا نظام مسلط کرتے ہیں۔
بھارتی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے اپنے پروگرام میں عامر خان نے کہا کہ ریاست کے منتخب ادارے ہوں یا بھارتی پارلیمنٹ تمام جگہوں پر جرائم پیشہ افراد بیٹھے ہوئے ہیں۔ قانون ساز ادارے ان جرائم پیشہ افراد کے لئے گنگا کی طرح ہے جہاں اشنان کرکے ناصرف وہ پاک ہوجاتے ہیں بلکہ انہیں آئندہ 5 سال کے لئے بھی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے، صورت حال یہ ہے کہ اس وقت بھارتی لوک سھا اور راجیہ سبھا کے 30 فیصد سے زائد ارکان جرائم پیشہ ہیں، جن پر قتل، اقدام قتل، زیادتی، اغوا برائے تاوان اور انسانی اسمگلنگ سمیت مختلف سنگین جرائم مقدمات زیر سماعت ہیں اور بدقسمتی سے ہر انتخابات میں جرائم پیشہ افراد کی شمولیت بڑھتی جارہی ہے۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جمہوری ملک کی طرح بھارت میں بھی عوام ہی سیاستدانوں کو پیدا کرتے ہیں اس لئے وہ اپیل کرتے ہیں کہ اپنے چھوٹے سے مفاد کے لئے ووٹ جیسی طاقت کو بیچنا ان کے اپنے لئے خطرناک ہے کیونکہ ان ہی کے ووٹ سے وہ ان پر جبر کا نظام مسلط کرتے ہیں۔