جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ نہیں ہوا ترجمان کالعدم تحریک طالبان

فائربندی میں توسیع نہیں ہوئی لہٰذا اب لڑائی اوربم دھماکے ہوں گے، امیرکالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی عمرخالد خراسانی

جنگ بندی کے حوالے سے مشاورت جاری ہے تاہم اختلاف رائے بھی موجود ہے، شاہد اللہ شاہد فوٹو: فائل

LOS ANGELES:
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے مشاورت جاری ہے جب کہ اختلاف رائے بھی موجود ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اپنے بیان میں شاہد اللہ شاہد نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے جنگ بندی کی قدر نہیں کی، جنگ بندی کے دوران بھی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور ایک ہفتہ قبل بھی کرم ایجنسی سے 7 افراد اٹھائے گئے اور ان پر میرے گھر آنے کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان شوریٰ کا اجلاس جلد متوقع ہے جس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔


دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی کے سیکریٹری کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک مضمون میں عمرخالد خراسانی کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ فائربندی میں توسیع نہیں ہوئی لہٰذا اب لڑائی دوبارہ شروع ہوجائے گی اور اس دوران بم دھماکے بھی ہوں گے، فائربندی کے دوران طالبان نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے وعدہ شکنی کی گئی اور جو خفیہ معاہدے ہوئے انہیں توڑا گیا، جتنا بھی نقصان ہوا وہ حکومت، فوج اور سیاسی جماعتوں کا ہوا، خفیہ معاہدے میں حکومت سے یہ بات طے پائی تھی کہ فائر بندی کے دوران نہ تو کوئی کارروائی کی جائے گی اور نہ ہی طالبان قیدیوں کا ماوورائے عدالت قتل لیکن اس دوران یہ سب کچھ ہوا۔

اپنے مضمون میں خالد عمر خراسانی نے الزام عائد کیا کہ فائربندی کے دوران 50 کے قریب طالبان اور ان کے حامیوں گرفتار اور 20 کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔
Load Next Story